Gorakh Dhanda

Community

بعد از خدا بزرگ تو یی , قصّہ مختصر
In short, after Almighty Allah, you are the greatest

0:15
14 رمضان المبارک۔ عرس مبارک منصور ثانی "حضرت سچل سرمست" رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ: سندھ کے صوفی شاعر حضرت سچل سرمست رح سندھ کی تاریخ حضرت سچل سرمست ؒ کے تذکرے کے بغیر نامکمل ہے۔ حضرت سچل سرمست ؒ سندھی زبان کے مشہور صوفی شاعراور مجذوب تھے ۔ انکا کلام سات مختلف زبانوں میں ملتا ہے (سندھی، عربی‘ فارسی ‘بلوچی‘ سرائیکی ‘ پنجابی اوراردو) مگر زیادہ حصہ سندھی اور سرائیکی پر مشتمل ہے۔ سچل سرمست 1739ء میں پیدا ہوئے۔ جائے پیدائش صوبہ سندھ میں ضلع خیرپورکے گاؤں رانی پور کا قریبی علاقہ درازہ ہے۔ اُن کا تعلق فاروقی خاندان سے ہے۔ اس خاندان میں کئی اہم ہستیاں گذری ہیں۔ ان میں سچل سرمست ؒ کے دادا میاں صاحب ڈنو عرف محمد حافظ ایک اہم بزرگ اور شاعر تھے۔ اس خاندان کے جدِ امجد محمد بن قاسم کے لشکر میں شامل تھے جو 93ھ میں سندھ پر حملہ آور ہوا تھا یہ شیخ شہابُ الدین تھے جو بعد میں سیہون کے حاکم مقرر ہوئے۔ میاں صاحب ڈنو بھی سندھ کے کلھوڑہ حاکموں کے دور میں اہم سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔ ان کی شاہ عبداللطیف بھٹائی سے ملاقات کا واقعہ بھی مشہور ہے۔ یہ دونوں بزرگ چلہ کشی والی غار میں ملے تھے۔ میاں صاحب ڈنوایک اہلِ دل درویش گذرے ہیں۔ اُنکا سندھی کلام بھی موجود ہے جو ظاہر پرستی اور خدا پرستی کے متعلق ہے۔ مُلا کو خاص طور پہ ہدفِ تنقید بنایا گیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ مُلا عشقِ حقیقی تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا۔ مُلا مجاور اور کوے کی مشابہت اسطرح کرتے ہیں۔ مُلا مجاور اور کوا تینوں ایک ہیں۔ ’’ملا وصال سے دور ہے ‘ محبت سے نا واقف ہے‘ مجاور کھانے کے انتظار میں ہے اور کوا وہاں تک نہیں پہنچ سکتا جہاں تک بڑے پرندے اُڑتے ہیں۔‘‘میاں صاحب ڈنو کے چھوٹے بیٹے اور سجادہ نشین میاں عبدالحق بھی شاعر تھے۔ سچل سرمست ؒ کے والد کا اسمِ گرامی میاں صلاح الدین تھا جو اپنے والد کی زندگی میں ہی انتقال کر گئے تھے جسکی وجہ سے میاں عبدالحق سجادہ نشین ہوئے۔ سچل سرمست ؒ کے والد کاانتقال ہو گیا تھا لہٰذا بچپن ہی سے اپنے چچا میاں عبدالحق کی نگہداشت میں آگئے تھے چچا نے انہیں عربی فارسی اور تصوف کے اسرارو رموزسے آگاہ کیا۔ حافظ عبداللہ کے پاس قرآن شریف اور دیگر علوم کے لئے گئے۔ قرآن مجید حفظ کیا۔ اس وجہ سے سچل سرمست کو حافظ عبدالوہاب کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ اُنکا اصل نام عبدالوہاب تھا چونکہ وہ بچپن سے ہی سچ بولا کرتے تھے لہٰذا لوگ انہیں سچل کے نام سے پکارنے لگے انہوں نے اپنی شاعری میں بھی سچل نام کو بطور تخلص استعمال کیا۔ سچل تنہائی پسند اور خاموش طبع شخص تھے۔ تنہائی کو پسند کرتے تھے اس لیے اکثر جنگل کی طرف نکل جاتے تھے‘فکر میں غرق رہتے تھے۔ کبھی کوئی شکار نہ کیا نہ ہی کبھی کسی پرندے یا جانور کو ذبح کیا۔ کسی قسم کا نشہ نہیں کیا۔ اُنکے دور میں منشیات عام ہو گئی تھیں نوجوانوں کو نشے کی لت پڑ گئی تو انہیں سمجھایا مگرنشے کے عادی نوجوان انکے خلاف ہوگئے اور ان پر آوازیں کسنے لگے۔ جوانی ہی سے نماز کے پابند تھے درود و وظائف میں مصروف رہتے تھے۔ پچاس برس کی عمر میں موج مستی اور عروج کی حالت میں بیخود ہو جاتے تھے۔ بیخودی اور مستی کی ایسی حالت دیکھ کر لوگوں نے مست کے نام سے بھی پکارنا شروع کر دیا سچل سرمست کے نام سے مشہور ہو گئے۔ مولانا رانی پوری اُنکے حلیے اور شکل و صورت کے بارے میں لکھتے ہیں کہ: ’’اُن کا قد سیدھا اور درمیانہ تھا، رنگ صاف بادام کی طرح، خدوخال دلکش، آنکھیں بڑی بڑی آھو چشم اور گیسو دراز تھے۔ سفید پیرہن سفید شال یا چادر اوڑھے رکھتے تھے۔ کھدر کا تہبند باندھتے تھے، سر پر سبز تاج ہوتا‘‘۔ مرزا علی قلی بیگ لکھتے ہیں کہ: ’’ پیری میں سفید ریش مبارک رکھتے تھے۔ جوتا کبھی پہنتے کبھی ننگے پاؤں ہی نکل جاتے۔ ہاتھ میں لاٹھی ہوتی تھی۔ سواری استعمال نہیں کرتے تھے۔ زمین پر یا لکڑی کے صندل پر بیٹھتے اور سو جاتے۔ چارپائی استعمال نہیں کرتے تھے۔ طنبورہ بھی ساتھ رکھتے تھے‘‘۔ ازدواجی زندگی: سچل سرمست کی شادی اپنے چچا میاں عبدالحق کی دختر نیک اختر سے ہوئی۔ ایک فرزند عطا ہوا جو بچپن میں ہی وفات پا گیا۔ شادی کے صرف دو سال بعد شریکِ حیات وفات پا گئی مگر زندگی بھر دوسری شادی کرنے کا خیال تک نہ آیا۔ سچل سرمست کی شاعری۔ ان کی شاعری میں عشق بنیادی موضوع ہے۔ اسکے لئے انہوں نے تاریخی داستانوں کا سہارا بھی لیا۔ اس سلسلے میں شاہ عبداللطیف بھٹائی کا اثر بھی لیا ہے۔ ہیر، سسی، مومل ، نوری اور جام تماچی اور دیگر کرداروں کے بھیس میں اپنا درد واضح انداز میں بیان کیا۔ مثلاََ نوری اور جام تماچی کے قصہء عشق سے انکساری کا سبق اخذ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انکساری انسان کے اعلٰی درجات و صفات میں سے ایک صفت ہے۔ پروفیسر کلیان آڈوان نے لکھا ہے کہ سچل سرمست کے تصور میں ایک غیر فرقہ وارانہ سماج تھا، جسے اب classless society کہا جاتا ہے۔ انکے شعر کا حوالہ دیتے ہوئے کہتےہیں ۔ ترجمہ: سب رسوم و رواج توڑ دو ۔۔۔ مرد بنومردانہ۔۔۔سچل غلامی والا وہم دور کرو۔ شملا باندھ شاہانہ سچل سرمست کی آواز نہایت بلند تھی۔ وہ بیباک صوفی شاعر تھے۔ فرسودہ رسومات کے خلاف لکھا اور مُلا کے تنگ نظریات اور منافرت والی پالیسی کو رد کیا۔ سچل سرمست ایک وسیع النظر انسان تھے۔ انہوں نے انسان کی عظمت کو اہمیت دی۔ وسیع انسانی برادری کے تصور کولیکر بے تعصبی کی تعلیم دی۔ ہندو بھی انکے مرید ہو گئے اور اسلام قبول کیا یہ سب صرف بے تعصبی کی وجہ سے ممکن ہوا۔ سچل پیر و مریدی سے بھی نالاں تھے۔ فرماتے ہیں۔ نا میں شیعہ۔ نا میں سنی۔ نا میں سید سداواں نا میں مرید۔ نا میں پیر۔ سارے فقر کا فقیر نا میں حاکم نا میں ظالم۔ میں ہوں امن کا امیر امن کی اہمیت آج کے دور میں بھی مسلم ہے۔ ظلم کی مخالفت کر تے ہوئے اُنہوں نے عالمی برادری کو ایک جانا۔ انکی شاعری میں رجائیت پسندی واضح نظر آتی ہے قنوطیت نظر نہیں آتی جبکہ عشقیہ شاعری میں کہیں کہیں قنوطیت بھی دکھائی دیتی ہے۔ اگر سچل کی شاعری میں پُر امیدی نا ہوتی تو شائد وہ اتنے کامیاب شاعر نہ ہوتے۔غلامی کی نفسیات کو رد کرتے ہوئے پیغام دیا ترجمہ : بارات کے پیچھے نہ چلو۔ خود کو دولہا کی طرح جانو۔ رہنمائی کرو۔ اکثر سوانح نگار وں نے بزرگ ہستیوں کی سوانح حیات لکھتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ عشقِ حقیقی سے سر شار تھے۔ فقط چند ایک مجاز کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ اکثر کی زندگی میں ابتدا میں مجاز اور آخر میں حقیقت کی طرف اشارے بھی ملتے ہیں۔ سچل سرمست کی سوانح عمری میں ان کی جوانی کے ادوار کا مختلف تذکرہ ملتا ہے۔ مولانا رانی پوری اُنکے بچپن کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ عین دورِ جوانی میں اپنے نفس پر قابو رکھتے تھے۔ اپنے فقیرانہ اور قلندرانہ خیالات میں گُم رہتے تھے۔ سچل سرمست کی زندگی میں کسی مغنیہ کے آنے کے حوالے بھی ملتے ہیں۔ انکے کلام میں بھی حسن و عشق کے کئی اشارات و استعارات ملتے ہیں۔ سچل نے بھی دیگر شعراء کی طرح عالمی بھائی چارہ اور انسان دوستی کو اپنے کلام میں اُجاگر کیا۔ ظلم و وحشت کی مذمت کی اور مذہبی منافرت اور فرقہ بندی کو غلط جانا۔ 1829 میں 90 برس کی عمر میں وفات پائی۔
1 month ago
0:08
"اصحاب بابا" پشاور کے ایک نواحی علاقے چغرمٹی کے مقام پرحضرت سنان بن سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ کا مزار مبارک مرجع خاص وعام ہے۔جسے لوگ اصحاب بابا کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ حضرت سنان بن سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی رسول ہیں۔جو دیگر کئی اصحاب رسول پاک اور مجاہدین اسلام کے ساتھ چغرمٹی کے اس مقام پر مدفون ہے۔یہ پشاور کے اس مقام چغرمٹی پر ہندو راجاؤں کے ساتھ جنگ کے دوران اسلام کا جھنڈا لہرا کے 66 ھجری میں اس مقام پر شھید ہوئے۔ اور آج جس مقام پر انکا یہ طویل مقبرہ بنا ہوا ہے یہ درحقیقت کئی صحابہ کرام اور مجاہدین اسلام کا مشترکہ مقبرہ ہے۔ اس لحاظ سے اس مقبرہ اور مزار کو بڑی شان و شوکت حاصل یے۔ جس کے نیچے اتنی مبارک شان و عظمت والی شخصیات مدفون ہیں۔ جو اسلامی شوکت و رفعت و عظمت کی خاطر اپنے علاقوں و خاندانوں کو الوداع کہ کریہاں تشریف لائے اور خالصتہ اللّہ کی رضا کے حصول اور حضرت محمدﷺ کے لائے ہوئے مکمل و جامع دین کی تبلیغ اور سربلندی کی خاطر کفار سے لڑےاور اپنے معصوم و بلند و پاکیزہ مقصد کے حصول کے ساتھ ساتھ یہاں پر جام شہادت نوش فرما کے آسودہ خاک ہوئے۔یہاں کے لوگوں کی اس مزار سے بڑی عقیدت ہے۔ حضرت سنان بن سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ جلیل القدر صحابی رسول ہونے کے ساتھ ساتھ عالم و فاضل اور تجربہ کار اسلامی لشکر کے جرنیل و سپاہ سالار بھی تھے۔ جب خراسان کا علاقہ فتح ہو گیا۔ تو یہاں پر حضرت زیاد رضی اللہ عنہ کو حاکم خراسان مقرر کیا گیا۔ یہ دور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا تھا۔ جنھوں نے اسلامی لشکر کو مختلف سمتوں میں روانہ کیا تھا۔ تمام اطراف کے اسلامی لشکروں کے سپاہ سالاروں نے توحید کے پیغام کو چپہ چپہ تک پہنچانے کی خاطر زندگی اور موت کے مخمصے سے آزاد ہو کر ہر ملک ملک ما است کہ ملک خدائے ما است کے نظریے کے ماتحت اپنی جائے مولود سےکوسوں دور جا کر توحید کے جھنڈے گھاڑے، انھیں سپاہ سالاروں میں اسلام کے ایک مجاہد جرنیل حضرت عبداللہ ابن سوار تھے جو قلات کے مقام پر اپنے دیگر مجاہدوں اور غازیوں کے ساتھ شہید ہوئے۔ چنانچہ اس واقعہ کے بعد 66ہجری میں حاکم خراسان حضرت زیادرضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ ابن سوار کے مشن کی تکمیل کی خاطر حضرت سنان بن سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ کو اسلامی لشکر کا سپاسالار بنا کر ہندوستان کے علاقوں کو فتح کرنے کی خاطر روانہ کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے مکران کے علاقے میں بغاوت کو کچلا اور اسلامی جھنڈا لہرا کر پیشقدمی کی اور کچھ عرصہ کے بعد قلات اور کوئٹہ کے علاقوں کو فتح کیا۔یہاں پر انہوں نے مضبوط اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی اور پھر اسکے بعد ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں کے علاقوں کو فتح کرتے ہوئے کوہاٹ پہنچے اور کوہاٹ میں اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی اور پھر اسکے بعد پشاور کی وادی میں داخل ہوئے پشاور کو فتح کرنے کے بعد حضرت سنان بن سلمہ کا اسلامی لشکرداؤدزئی میں وارد ہوا یہاں پر چغرمٹی کے مقام پر کفار سے خون ریزی جنگ لڑی اور اسلام کا جھنڈا لہراتے ہوئے حضرت سنان بن سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ اور انکے دیگر مجاہدین دوست بڑی تعداد میں شہید ہوئے ان تمام شہداء کو یہاں پر دفن کیا گیا اس مزار کو لوگ مزار اصحاب بابا کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اور بڑی تعداد میں عقیدت مند مزار پر حاضری دیتے ہیں۔ وادی پشاور اس وجہ سے بھی بڑا خوش قسمت شہر ہے کہ یہاں پر حضرت محمدﷺ کے معجزہ کے ایک فرد (حضرت سنان بن سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ ) محو خواب ہیں شاید اس وجہ سے اللہ تعالی یہاں کے لوگوں کی مغفرت فرمائے۔ جیسا کہ ترمزی میں روایت ہے حضرت عبداللہ ابن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ رسولﷺ نے فرمایا میرے صحابہ میں سے جو شخص جس ذمین میں مرے گا وہاں اپنی قبر سے قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ زمین کے لوگوں کو جنت کی طرف کھینچ کر لیجانیوالا ہو گا اور ان کے لئے نور یعنی جنت کا راستہ دکھانے والا ہو گا۔ اللہ تعالی ہمیں صحابہ کرام کی سچی محبت نصیب فرمائے اور انکے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
1 month ago