Aliwalay.com

News & Media Website

Aliwalay.com Network
SINCE 2007


Our Projects:
1. http://qna.aliwalay.com/
[you can ask your fiqhi issue to our Islamic scholars hujjat ul islam moulana ali nasir mehdavi]

2. http://majalis.aliwalay.com/archive/
[biggest collection of ulmah majalis and lectures on different topics]

3. http://www.aliwalay.com/aliwalay/
[ biggest collection of nohay , manqbat , naats etc]

4. http://books.aliwalay.com/
Islamic archive related books

5.https://vimeo.com/aliwalay/videos
biggest collection of video lectures

0:45
➕ Join Us: https://chat.whatsapp.com/DE7fRVUae9F0odebeReqFv *القرآن - سورۃ نمبر 20 طه - آیت نمبر 39* أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ اَنِ اقۡذِفِيۡهِ فِى التَّابُوۡتِ فَاقۡذِفِيۡهِ فِى الۡيَمِّ فَلۡيُلۡقِهِ الۡيَمُّ بِالسَّاحِلِ يَاۡخُذۡهُ عَدُوٌّ لِّىۡ وَعَدُوٌّ لَّهٗ‌ ؕ وَاَلۡقَيۡتُ عَلَيۡكَ مَحَـبَّةً مِّنِّىۡ وَلِتُصۡنَعَ عَلٰى عَيۡنِىۡ *لفظی ترجمہ:* اَنِ اقْذِفِيْهِ : کہ تو اسے ڈال | فِي التَّابُوْتِ : صندوق | فَاقْذِفِيْهِ : پھر اسے ڈالدے | فِي الْيَمِّ : دریا میں | فَلْيُلْقِهِ : پھر اسے ڈالدے گا | الْيَمُّ : دریا | بِالسَّاحِلِ : ساحل پر | يَاْخُذْهُ : اسے لے لے گا | عَدُوٌّ لِّيْ : میرا دشمن | وَعَدُوٌّ لَّهٗ : اور اس کا دشمن | وَاَلْقَيْتُ : اور میں نے ڈالدی | عَلَيْكَ : تجھ پر | مَحَبَّةً : محبت | مِّنِّيْ : اپنی طرف سے | وَلِتُصْنَعَ : اور تاکہ تو پرورش پائے | عَلٰي عَيْنِيْ : میری آنکھوں پر (میرے سامنے) *ترجمہ:* کہ اس (بچے) کو صندوق میں رکھو، پھر اس صندوق کو دریا میں ڈال دو ۔ پھر دریا کو چھوڑ دو کہ وہ اسے ساحل کے پاس لاکر ڈال دے، جس کے نتیجے میں ایک ایسا شخص اس (بچے) کو اٹھالے گا جو میرا بھی دشمن ہوگا، اور اس کا بھی دشمن۔ اور میں نے اپنی طرف سے تم پر ایک محبوبیت نازل کردی تھی۔ اور یہ سب اس لیے کیا تھا کہ تم میری نگرانی میں پرورش پاؤ۔ *Maar'rif ul Quran* فَلْيُلْقِهِ الْيَمُّ بالسَّاحِلِ ، اس جگہ یم بمعنے دریا سے بظاہر نہر نیل مراد ہے آیت میں ایک حکم تو موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ ماجدہ کو دیا گیا ہے کہ اس بچے (موسیٰ علیہ السلام) کو صندوق میں بند کرکے دریا میں ڈال دیں، دوسرا حکم بصیغہ امر دریا کے نام ہے کہ وہ اس تابوت کو کنارہ پر ڈال دے فَلْيُلْقِهِ الْيَمُّ بالسَّاحِلِ ، دریا چونکہ بظاہر بےحس و بےشعور ہے اس کو حکم دینے کا مفہوم سمجھ میں نہیں آتا اس لئے بعض حضرات نے یہ قرار دیا کہ اگرچہ یہاں صیغہ امر بمعنی الحکم استعمال ہوا ہے مگر مراد اس سے حکم نہیں بلکہ خبر دینا ہے کہ دریا اس کو کنارہ پر ڈال دے گا۔ مگر محققین علماء کے نزدیک امر اپنے ظاہر پر امر اور حکم ہی ہے اور دریا ہی اس کا مخاطب ہے کیونکہ ان کے نزدیک دنیا کی کوئی مخلوق درخت اور پتھر تک بےعقل و بےشعور نہیں بلکہ سب عقل و ادراک موجود ہے اور یہی عقل و ادراک ہے جس کے سبب یہ سب چیزیں حسب تصریح قرآن اللہ کی تسبیح میں مشغول ہیں۔ ہاں یہ فرق ضرور ہے کہ انسان اور جن اور فرشتہ کے علاوہ کسی مخلوق میں عقل و شعور اتنا مکمل نہیں جس پر احکام حلال و حرام عائد کر کے مکلف بنایا جائے، دانائے روم نے خوب فرمایا خاک و باد و آب و آتش بندہ اند بامن و تو مردہ باحق زندہ اند يَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّيْ وَعَدُوٌّ لَّهٗ ، یعنی اس تابوت اور اس میں بند کئے ہوئے بچے کو ساحل دریا سے ایسا شخص اٹھائے گا جو میرا بھی دشمن ہے اور موسیٰ کا بھی، مراد اس سے فرعون ہے۔ فرعون کا اللہ کا دشمن ہونا اس کے کفر کی وجہ سے ظاہر مگر موسیٰ (علیہ السلام) کا دشمن کہنا اس لئے محل غور ہے کہ اس وقت تو فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا دشمن نہیں تھا بلکہ ان کی پرورش پر زر کثیر خرچ کر رہا تھا پھر اس کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا دشمن فرمایا تو انجام کار کے اعتبار سے ہے کہ بالآخر فرعون کا دشمن ہوجانا اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا اور یہ کہا جائے تو بھی کچھ بعید نہیں کہ جہاں تک فرعون کی ذات کا تعلق ہے وہ فی نفسہ اس وقت بھی دشمن ہی تھا۔ اس نے حضرت موسیٰ کی تربیت صرف بیوی آسیہ کی خاطر گوارا کی تھی اور اس میں بھی جب اس کو شبہ ہوا تو اسی وقت قتل کرنے کا حکم دے دیا تھا جو حضرت آسیہ کی دانش مندی کے ذریعہ ختم ہوا (روح و مظہری) وَاَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ ، اس جگہ لفظ محبت مصدر بمعنے محبوبیت ہے اور مطلب یہ ہے کہ حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنی عنایت و رحمت سے آپ کے وجود میں ایک محبوبیت کی شان رکھ دی تھی کہ جو آپ کو دیکھے آپ سے محبت کرنے لگے۔ حضرت ابن عباس اور عکرمہ سے یہی تفسیر منقول ہے (مظہری) وَلِتُصْنَعَ عَلٰي عَيْنِيْ ، لفظ صنعت سے اس جگہ مراد عمدہ تربیت ہے جیسے عرب میں صنعت فرسی کا محاورہ اسی معنی میں معروف ہے کہ میں نے اپنے گھوڑے کی اچھی تربیت کی اور علی عینی سے مراد علی حفظی یعنی اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرما لیا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی بہترین تربیت براہ راست حق تعالیٰ کی نگرانی میں ہو اس لئے مصر کی سب سے بڑی ہستی یعنی فرعون کے ہاتھوں ہی اس کے گھر میں یہ کام اس طرح لیا گیا کہ وہ اس سے بیخبر تھا کہ میں اپنے ہاتھوں اپنے دشمن کو پال رہا ہوں۔ (مظہری)
16 hours ago