علماءاحناف،دیوبند۔الہند

Book

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
اس پیج پرآپ کے آنے کیلئے اور اس کولائیک کرنےپر ہم آپکا شکریہ اداکرتے ہیں ...

9:12
شریعت میں تبدیلی کی ناپاک سازش کا مسلمان ڈٹ کر مقابلہ کریں گے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے حیدرآباد اجلاس میں مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کا دو ٹوک اعلان پرسنل لا بورڈ کی مخالفت کرنے والے شیطان کے ایجنٹ اور مودی کے اشارے پر سرگرم: اسدالدین اویسی حیدرآباد۔ ۱۲؍فروری: (نازش ہماقاسمی) حیدرآباد میں آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کے سہ روزہ اجلاس کے اختتام کے بعد بورڈ کی ایماء پر مجلس اتحاد المسلمین کے ہیڈکوارٹردارالسلام میں منعقدہ اجلاس عام بعنوان ’’تحفظ شریعت و اصلاح‘‘ معاشرہ کانفرنس میں تقریباً ایک لاکھ کے قریب فرزندان توحید نے شرکت کی۔ دارالسلام اپنی وسعت کے باوجود کل تنگ دامنی کاشکوہ کررہا تھا ، ہرجانب انسانی سروں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر نظر آرہا تھا۔ اجلاس میں تمام مسالک کے قائدین شریک تھے۔ اس اجلاس میں ایم آئی ایم کے کل ہند صدر وممبرپارلیمنٹ نقیب ملت بیرسٹر اسدالدین اویسی نے نریندر مودی اور مولانا سلمان ندوی پر جم کر نشانہ سادھا انہوں نے کہا کہ یاد رکھو یہ مسلم پرسنل لا بورڈ شخصیتوں سے نہیں چل رہا ہے، مسلم پرسنل لا بورڈ کا کام اللہ کے کرم سے چل رہا ہے، لوگ آئیں گے چلے جائیں گے.... آگے پڑھنے کے لئے مذکورہ ذیل ربط پر کلک کریں http://www.baseeratonline.com/59130.php
2 days ago
2:17
️سوال: موبائل میں اذان یا ذکر اللہ یا نعتیہ کلام کو رنگ ٹون کے طریق پر رکھنا، اسی طرح گھر کے باہر جو آلارم رکھا جاتا ہے،اسمیں "السلام علیکم" یا کوئی ذکر رکھنا کیسا ہے؟ خاص کر السلام علیکم والا آلارم رکھا جائے تو اسکی اجازت ہے ؟ الجواب و باللہ التوفیق بسم اللہ الرحمن الرحیم موبائل میں ذکر اللہ، اذان وغیرہ کی رنگ ٹون یا گھر کے آلارم میں ذکر اللہ کو فٹ کرنا اور اسکو استعمال کرنا ناجائز ہے فتاوی بینات جلد ۲ صفحہ ۴۰۸ محمود الفتاوی میں فتاوی رحیمیہ کے حوالہ سے لکھا ہے: اسمیں اللہ کے مبارک نام اور بے حد تعظیم والے نام کو، کسی کو اپنے آنے یا فون آنے کی خبر دینے یا کسی کو بلانے کے لئے استعمال کرنا لازم آتا ہے، اور یہ جائز نہیں، گناہ کا کام ہے، اس طرح کے استعمال میں اللہ کے نام کی توھین ہے، لہذا گھر یا آفس کے آلارم میں یا موبائل کی رنگ ٹون میں اسے استعمال نہ کیا جائے، اللہ کا نام خالص ذکر الہی کے ارادہ سے لینا چاہیئے، اپنی دنیاوی غرض پوری کرنے کے لئے اس مبارک نام کو استعمال کرنا بہت ہی نامناسب اور ایمانی غیرت کے خلاف ہے، فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص لوگوں کو اپنی آمد کی خبر *یا اللہ* کہہ کر دے تو یہ مکروہ ہے، اسی طرح چوکیدار لوگوں کو بیدار کرنے کی غرض سے *لا الہ الا اللہ* پڑھے تو یہ بھی مکروہ ہے *📖فتاوی محمودیہ جلد ۳ صفحہ ۱۷۹* *📖فتاوی رحیمیہ جلد ۱۰ صفحہ ۲۳۷* فتاوی شامیہ میں ہے:- (شعر) و قد کرھوا واللہ اعلم و نحوہ لإعلام ختم الدرس حین یقرّر "قال فی شرحہ" فانہ آلة للإعلام۔ و نحوہ اذا قال الداخل یا اللہ مثلا لیعلم الجلاّس بمجیئہ(اپنے آنے کی) لیھیئوا لہ محلا(اسکے لئے جگہ کرے) و یوقروہ و اذا قال الحارس لا الہ الا اللہ و نحوہ لیعلم باستیقاظہ فلم یکن المقصود الذکر(قد کرھوا) *📖الدرالمختار مع الشامی جلد ۹ صفحہ ۶۱۷* البتہ موبائل اور آلارم میں السلام علیکم کو رنگ ٹون کے طور پر رکھے تو اسکی گنجائش ہے،لیکن احتیاطی طور پر نہ رکھنا زیادہ مناسب ہے *📚محمود الفتاوی جلد ۳ صفحہ ۲۹۸* فتاوی دارالعلوم دیوبند آن لائن میں السلام علیکم کو رنگ ٹون کے طور پر رکھنے کو نادرست لکھا ہے فتوی ملاحظہ فرمائیے! سوال # 1582 /جواب # 1582 فتوی: 1312/ ب= 1168/ ب السلام علیکم، بہت عمدہ سلامتی کی دعا ہے اورقرآن وحدیث کا مقدس کلام ہے اسے لہو و لعب بنانا اور اسے موبائل میں رنگ ٹون میں بھروانا ادب و احترام کے خلاف ہے۔ یہ درست نہیں۔ جس کے پاس فون کریں گے وہ اس وقت پیشاب پاخانے کی حالت میں کھانے یا سونے کی حالت میں ہو تو یہ سلام بے محل ہوگا۔ اس لیے اس سے احتراز ضروری ہے *📚(دارالافتاء،دارالعلوم دیوبند)* نعتیہ کلام عموما حمد باری اور عشق رسول پر مشتمل ہوتا ہے، اسلئے اسکا بھی حکم وہی ہوگا جو ذکر اللہ کا ہے (ھذا ما عندی) واللہ اعلم بالصواب و علمہ اتم کتبہ عطاءالرحمن بن محمد حنیف بڑودوی 📚کشکول علوم📚 https://t.me/KashkoleUloom ....... ایک صاحب کہتے ہیں کہ میں کچھ ناگزیر مجبوریوں کی وجہ سے ایک ایسے دور سے گزرا کہ قرآن کو شدید مصروفیات کی وجہ سے بالکل وقت نہ دے سکا۔ مجھے بہت دکھ اور افسوس تھا لیکن اپنے آپ کو یہ دلاسہ دے کر مطمئن کرتا کہ مصروفیات اور مشکلات ختم ہوتے ہی قرآن سے ناطہ جوڑ دونگا۔ وقت یونہی مصروفیت کی نظر ہوتا گیا کہ ایک دن اچانک سورت مزمل کی یہ آیت یاد آگئی : " وَاللَّهُ يُقَدِّرُ اللَّيلَ وَالنَّهارَ عَلِمَ أَن لَن تُحصوهُ فَتابَ عَلَيكُم فَاقرَءوا ما تَيَسَّرَ مِنَ القُرآنِ عَلِمَ أَن سَيَكونُ مِنكُم مَرضى وَآخَرونَ يَضرِبونَ فِي الأَرضِ يَبتَغونَ مِن فَضلِ اللَّهِ وَآخَرونَ يُقاتِلونَ في سَبيلِ اللَّهِ فَاقرَءوا ما تَيَسَّرَ مِنهُ " "اللہ ہی دن اور رات کا حساب رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ تم اوقات کا ٹھیک سے شمار نہیں رکھ سکتے اس لئے اس نے تم پر مہربانی فرمائی پس جتنا قرآن تم آسانی سے پڑھ سکتے ہو پڑھ۔ اسے معلوم ہے کہ تم میں کچھ لوگ مریض ہیں اور کچھ رزق اور اللہ کے فضل کی تلاش میں ہیں اور کچھ اللہ کی راہ میں جہاد میں مصروف ہیں ۔ پس جتنا قرآن بآسانی پڑھا جاسکتا پڑھ لیا کر۔" کتنی پیار بھری ندا ہے اللہ کی طرف سے : کہ میرے بندے تجھے بیماری، طلب رزق حتی کہ اس کی راہ میں جہاد قرآن کی تلاوت سے نہ روکے۔ میں تمہاری تھوڑی تلاوت کو بھی قبول کرتا ہوں اور تمہاری کمی اور کوتاہی کو معاف کر دونگا ۔ پس تلاوت کر جتنا سہولت کے ساتھ کرسکتے ہو کیونکہ یہ دین و دنیا (طلب رزق اور جہاد )سے اہم ہے۔ اگر کبھی زندگی میں مجبور و مصروف ہوگئے تو یہ نہ بھولنا "فاقرؤوا ما تيسر من القران" پڑھ جتنا آسانی سے پڑھ سکتے ہو قرآن پاک کی دلچسپ معلومات۝ سپارے....................30 سجدے...................14 منزل........................7 سورتیں..................114 سورتیں مکی........86 سورتیں مدنی......28 رکوع ..............540 آیات.....................6666 حروف.................323760 زبر.......................53243 زیر......................53243 پیش...................8804 مد.......................1771 شد......................1243 نقطے..................105681 ۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞۞ الف 48872 ب 11228 ت 1199 ث 1276 ج 3273 ح 973 خ 2416 د 5642 ذ 4697 ر 11793 ز 1590 س 5891 ش 2253 ص 2013 ض 1607 ط 1274 ظ 842 ع 92200 غ 2208 ف 8499 ق 6813 ک 9522 ل 3432 م 26535 ن 26560 و 2556 ھ 1907 لا 3720 ء 4115 ی 25919 ۝ ثواب کی نیت سے زیادہ سے زیادہ شیر کریں
8 days ago
12:00
سوال: تدفین جنازہ کے بعد قبر پر ایک اونٹ کو ذبح کر کے گوشت تقسیم کر نے میں جتنی دیر ہوتی ہے اتنی دیر قبر کے پاس کھڑے رہنے کی کوئی حدیث ہیں. الجواب ومنہ الصدق الصواب حامداً ومصلیا امابعد --- آج کل ایک حدیث بہت گردش میں ہے کہ اگر کسی کا رشتہ دار فوت ہو جائے تو میت کا حق ہے کہ دفنانے کے بعد اتنی دیر تک قبر پر بیٹھا جائے جتنی دیر میں ایک اونٹ ذبح کر کے گوشت تقسیم نہ کر دیا جائے ۔ برائے کرم اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں کہ یہ حدیث کتنی صحیح ہے ۔ فقہاء نے فرمایا: مستحب یہ ہے کہ تدفین سے فارغ ہوکر قبر کے پاس ( کم از کم) اتنی دیر ٹھہرا جائے کہ ایک اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کیا جاسکے اور اس دوران میت کے لیے منکر نکیر کے سوالات کے جواب میں ثبات قدمی اور مغفرت کی دعا کرنی چاہیے اور قرآن پاک پڑھنا چاہیے، جیسے: میت کے سرہانے سور بقرہ کی ابتدائی آیتیں اور پائینتی جانب سورہ بقرہ کی آخری آیتیں پڑھنی چاہیے۔ اور اس کا ثبوت درج ذیل احادیث سے ہے: (۱): حضرت عثمان روایت ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میت کی تدفین کے بعد کچھ دیر ٹھہرتے اور فرماتے: اپنے بھائی کے لیے دعائے مغفرت کرو اور اللہ تعالی سے اس کے لیے (منکر نکیر کے سوالات کے جواب میں )ثبات قدمی کا سوال کرو؛ کیوں کہ اب اس سے سوال کیا جائے گا (سنن ابو داود بہ حوالہ مشکوة شریف، ص ۲۶، مطبوعہ: مکتبہ اشرفیہ دیوبند)۔ (۲) :حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ میں نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کسی کا انتقال ہوجائے تو اسے روک کر مت رکھو اور جلد از جلد اسے اس کی قبر تک پہنچاوٴ اور (دفن کے بعد) اس کے سرہانے سورہ بقرہ کی ابتدائی آیتیں (شروع سے ھم المفلحونتک) اور پائینتی جانب سورہ بقرہ کی آخری آیتیں (آمن الرسول سے آخر تک) پڑھی جائیں اور بیہقی نے فرمایا: صحیح یہ ہے کہ یہ روایت موقوف ہے۔ ( شعب الایمان ، بہ حوالہ: مشکوة شریف، ص ۱۴۹)۔ (۳): حضرت عمرو بن العاص نے سکرات کی حالت میں اپنے بیٹے سے فرمایا: جب میرا انتقال ہوجائے تو میرے جنازے کے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی نہ جائے اور نہ آگ، اور جب تم لوگ مجھے دفن کرچکو تو مجھ پر تھوڑی تھوڑی مٹی ڈالنا ، اس کے بعد میری قبر کے ارد گرد اتنی دیر ٹھہرو کہ ایک اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کیا جاسکے تاکہ تمہاری وجہ سے مجھے انس رہے اور میں جان سکوں کہ میں اپنے پروردگار کے فرشتوں کو کیا جواب دے رہا ہوں؟ (مسلم شریف، بہ حوالہ مشکوة شریف، ص ۱۴۹)۔ عن عثمان قال: کان النبي صلی اللہ علیہ وسلم إذا فرغ من دفن المیت وقف علیہ فقال: ”استغفروا لأخیکم ثم سلوا لہ بالتثبیت فإنہ الآن یسأل“، رواہ أبو داود (مشکاة المصابیح، کتاب الإیمان، باب إثبات عذاب القبر، الفصل الثاني، ص ۲۶، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، وعن عبد اللہ بن عمر قال: سمعت النبي صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ”إذا مات أحدکم فلا تحبسوہ وأسرعوا بہ إلی قبرہ ولیقرأ عند رأسہ فاتحة البقرة وعند رجلیہ بخاتمة البقرة“، رواہ البیھقي فیٴ شعب الإیمان وقال: والصحیح أنہ موقوف (المصدر السابق، کتاب الجنائز، باب دفن المیت، الفصل الثالث، ص ۱۴۹، وانظر مرقاة المفاتیح أیضاً)، وعن عمرو بن العاص قال لابنہ وھو في سیاق الموت: إذا أنا مت فلا تصحبني نائحة ولا نار فإذا دفنتموني فشنوا علی التراب شناً ثم أقیموا حول قبري قدر ما ینحر جزور ویقسم لحمھا حتی أستأنس بکم وأعلم ماذا أراجع بہ رسل ربي؟ رواہ مسلم (المصدر السابق)، ویستحب ……بعد دفنہ لدعاء وقراء ة بقدر ما ینحر الجزور ویفرق لحمہ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ۳: ۱۴۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، وانظر رد المحتار أیضاً۔ واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند #واللہ تعالی اعلم وعلمہ اتم وحکمہ احکم نقلہ: احمد بن محمد ارشد خان
9 days ago
12:35
حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کا تقوی حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ اکثر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کیا کرتے ؛ مگر جوں ہی نماز سے فارغ ہوتے بعجلت تمام مسجد سے نکل جاتے۔ ایک دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر مبارک پڑی تو روک کر پوچھا: ابو دجانہ! کیا تمھیں اللہ تعالی سے کسی حاجت کی طلب نہیں ہوتی؟ ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: کیوں نہیں یا رسول اللہ، بلکہ میں ایک لمحہ بھی خدا سے بے نیاز نہیں ہوسکتا. حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: پھر کیوں نماز کے اختتامیہ کے بعد اپنی مرضی کے مطابق دعا کرنے کا انتظار نہیں کرتے؟ ابودجانہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کی وجہ یہ ہے کہ میرا ایک یہودی پڑوسی ہے اس کے ہاں کھجور کا ایک درخت ہے، جس کی شاخیں میرے گھر کے صحن میں پھیلی ہوئی ہیں، جب رات کو ہوا چلتی ہے پکی کھجوریں میرے صحن میں گری ہوتی ہیں۔ میری کوشش یہ ہوتی ہے کہ اپنے بچوں کے بیدار ہونے سے پہلے جلد کھجوروں کو سمیٹ کر پڑوسی کے گھر پہنچادوں کہیں ایسا نہ ہو کہ بھوکے پیاسے میرے بچے ان کھجوروں میں سے کوئی حصہ کھاجائیں۔ بخدا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میں نے ایک دفعہ اپنے ایک بچے کو ان کھجوروں میں سے کھاتے ہوئے دیکھا تو میں نے اس کے حلق میں اپنی انگلی ڈال کر نگلنے سے پہلے نکال لیا، جب میرا بچہ رونے لگا تو میں نے ڈانٹتے ہوئے کہا: کیا تم لجاتے نہیں کہ تمھارا باپ خدا کے سامنے چور بن کر آئے؟ ابودجانہ کی بات سنتے ہی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہودی کے گھر جاکر کھجور کا درخت خرید لیا اور ابودجانہ اور ان کی اولاد کو بلا معاوضہ ہبہ کردیا۔ جب یہودی کو حقیقت حال کا علم ہوا تو اپنے اہل وعیال سمیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر علانیہ اسلام قبول کیا۔ اللہ ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے
9 days ago
7:47
بیٹا اور چچا کی مطلقہ یا بیوہ سے نکاح ؟ ------------------------------------- السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ بیٹے کے انتقال کے بعد باپ کا بیٹے کی بیوی سے نکاح کرنا کیسا ہے .مثلا زید کا بیٹا عمرو ہے جو کہ شادی شدہ ہے اب عمرو کا انتقال ہوگیا تو عمرو کی بیوی سے زید کا نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟؟ اسی طرح کسی لڑکے کا اپنی بڑی امی سے یعنی اپنے باپ کے بڑے بھائی کی بیوی سے۔اور اپنی چچی سے یعنی اپنے باپ کے چھوٹے بھائی کی بیوی سے نکاح کرنا کیسا ہے ؟ جواب عنایت فرما کر ممنون و مشکور ہوں --------------------------------------- الجواب وباللہ التوفیق :بیٹا کی منکوحہ باپ کے لئے ہمیشہ کے لئے حرام ہے۔خواہ بیٹا نے وطی یا خلوت صحیحہ کرکے وفات پایا ہو یا اس کے بغیر ۔نفس نکاح کرلینے سے ہی عورت اپنے خسر پہ حرام ہوجاتی ہے ۔اس سے کبھی بھی نکاح منعقد نہیں ہوسکتا فی القرآن الکریم (النساء:۲۳):وَحَلاَئِلُ اَبْنَائِكُمُ الَّذِيْنَ مِنْ اَصْلاَبِكُمْ وفی الھندیۃ (۲۷۴/۱):والثالثة حليلة الابن وابن الابن وابن البنت وإن سفلوا دخل بها الابن أم لا ولا تحرم حليلة الابن المتبنى على الأب المتبني هكذا في محيط السرخسي ۔ 2۔ قرآن کریم نے چند رشتوں کو حرام کرنے کے بعد اس کے ماسوا سارے رشتوں کو جائز قرار دیا ہے۔بڑے ابا یا چچا کی مطلقہ یا بیوہ ان حرام کردہ رشتوں میں نہیں ہے۔لہذا اگر کوئی وجہ حرمت نہ ہو تو چچا وغیرہ کی بیوہ ومطلقہ سے بعد عدت نکاح کرنا شرعا درست ہے وَاُحِلَّ لَکُمْ مَا وَرَآئَ ذٰلِکُمْ یعني ماسوی المحرمات المذکورات في الآیات السابقۃ۔ (تفسیر مظہري، زکریا دیوبند۲/۶۶) وَاُحِلَّ لَکُمْ مَا وَرَآئَ ذٰلِکُمْ أي ماورآء ماحرمہ اﷲ تعالیٰ۔ (بدائع الصنائع، زکریا۲/۵۴۰) واللہ اعلم بالصواب شکیل منصور القاسمی
11 days ago
7:14
((ذکر اور شکر میں تقدیم و تا خیر)) اللہ تعالی شانہ کا ذکر اور شکر دونوں ہی ضروری ہیں لیکن ان دونوں میں اولیت کسکو حاصل ہے، آئیے اسے قرآن پاک میں تلاش کرتے ہیں: ارشاد باری تعالی ہے: "فاذکرونی اذکرکم واشکروالی ولا تکفرون" کہ میری ان نعمتوں پر تم مجھے یاد کرو میں بھی عنایتوں کے ساتھ تمہیں یاد رکھوں گا اور میری نعمتوں کی شکر گذاری کرو اور کبھی میری ناسپاسی مت کرنا "دیکھئے، اس آیت قدس میں خود حق تعالی شانہ نے ذکر کو شکر پر مقدم فرماکر ھمیں یہ بتایا ہے کہ ذکر کا ماحصل اللہ تعالی کے ساتھ مشغول ہونا ہے اور شکر کا حاصل اللہ تعالی کی نعمتوں میں مشغول رھنا ہے پس منعم کے ساتھ مشغولی نعمتوں کے ساتھ اشغال سے کہیں زیادہ افضل اور اھم ہے. چنانچہ روح آلمعانی جلد اول صفحہ انیس کی عبارت ہے کہ: انما قدم الذکرعلی الشکر لان فی الذکر اشتغالا بذاتہ تعالی وفی الشکر اشتغالا بنعمتہ والاشتغال بذاتہ تعالی اولی من الاشتغال بنعمتہ "بسود ائے جاناں زجاں مشتغل" بذکر حبیب ازجہاں مشتغل" بیاد حق از خلق بگریختہ" چناں مست ساقی کہ مے ریختہ "(ترجمہ) محبوب حقیقی کی یاد میں وہ مزہ آیا کہ اپنی جان سے تو بے پروا ھو ھی گئے ساتھ ہی سارے جہان کو بھی بھول گئے" حق تعالی کی یاد میں مخلوق سے کنارہ کش ہیں اور ساقی پر ایسے فریفتہ ھوئے کہ جام مے ھاتھ سے گرگیا منعم حقیقی کی یاد کے غلبہ سےنعمتوں کی طرف التفات سے ایسا ذھول ھوا کہ یہی بھول گئے کہ ھاتھ میں کیا ہے "تمنا ہے کہ اب ایسی جگہ کوئی کہیں ھوتی "اکیلے بیٹھے رھتے یاد انکی دلنشیں ھوتی "ستاروں کو یہ حسرت ہے کہ ہو تے وہ میرے آنسو "تمنا کہکشاں کو ہے کہ میری آستیں ہوتی "ِخداکی یادمیں بیٹھے جو سب سے بے غرض ھوکر "تو اپنا بوریا بھی پھر ھمیں تخت سلیماں تھا "ازل میں سامنے عقل وجنوں دونوں کا سامان تھا "جو میں ھوش وخرد لیتا تو کیا میں کوئی ناداں تھا "معیت گر نہ ہو تیری تو گھبراؤں گلستاں میں "رہے تو ساتھ تو صحراء میں گلشن کا مزہ پاؤں نعمان احمد مرزاپوری، دہلی
9 days ago
8:33
ﺣﺴﻦ ﻗﺮﺁﺕ ﮐﺎ عالمی ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﺗﻨﺰﺍﻧﯿﮧ ﻣﯿﮟ 14 12 ۔ 2017 کے دوران ہوا ﺟﺲ ﻣﯿﮟ؛ 1. ﺗﻨﺰﺍﻧﯿﮧﭘﮩﻠﮯ ﻧﻤﺒﺮ 2. ﻣﺼﺮ ﺩوﺳﺮﮮ ﻧﻤﺒﺮ ﭘﺮ 3. ﺍﻧﮉﻭﻧﯿﺸﯿﺎ ﺗﯿﺴﺮے ﻧﻤﺒﺮ ﭘﺮ فائز رہا. ..................... قسط (۳۱۷) دارالعلوم دیوبند ، امام الکبیر حضرت نانتوی ، مفتی ابوالقاسم صاحب کا جھوٹ ، جگ ہنسائی ، نانتوی رحمۂ اللہ علیہ کی وصیت ، ( دعوتی کام اور اس کااسلوب ) الحمدللّٰہ وحدہ والصلاۂ والسلام علی من لانبی بعدہ - امابعد : * دارالعلوم دیوبند اور حضرت امام الکبیر مولانا قاسم صاحب نانتوی رحمۂ اللہ علیہ کی وصیت : * دارالعلوم دیوبند کے انتظامی امور سے متعلق مولانا قاسم صاحب نانتوی رحمۂ اللہ علیہ نے اپنے دست مبارک سے ایک وصیت تحریر فرمائی تھی ، جس کاعموماتذکرہ کیاجاتا رہاہے کہ دارالعلوم کے خزانے میں یہ تحریر آج بھی محفوظ ہے ، * بدقسمتی سے براہ راست یاکسی اور ذریعے سے یہ تحریر عوام میں نہیں آئی ، لیکن بہ تواتر بزرگوں سے یہ سناجاتارہاہے کہ اس تحریر خاص میں امام الکبیر مولانا قاسم صاحب نانتوی رحمۂ اللہ علیہ نے بطور وصیت نامہ کے ان بنیادی باتوں کو قلم بند فرمایا ہے کہ جن پر آپ نے اس دارالعلوم کی بنیاد قائم فرمائی تھی اور وصیت فرمائی گئی ہے کہ آئیندہ جن لوگوں کے ہاتھوں میں دارالعلوم کے نظم ونسق کی باگ آئے ، وہ ان کلیات کی روح کی حفاظت کے ذمہ دار ہوں گے ، * بہرحال مجلہ : القاسم : کے دارالعلوم نمبر مجریہ سنہ (۱۳۴۷) ہجری کے حوالہ سے : تحریر خاص : کے مشتملات ومضامین کو نقل کرتے ہوئے ، ناظم مرکزی جمعیۂ العلماء (دہلی ) مولانا سید محمد میاں صاحب نے : علمائے ہند کے شاندار ماضی : میں من جملہ دوسری دفعات کے ایک دفعہ کاذکر ان الفاظ میں فرمایاہے کہ : * اس کا یعنی (دارالعلوم ) کا * تعلق عام مسلمانوں سے زائد سے زائد ہو ، تاکہ یہ تعلق خود بخود مسلمانوں میں ایک نظم پیداکرے ، جوان کواسلام اور مسلمانوں کی اصل شکل پر قائم رکھنے میں معین ہو ! * آگے اسی مقصد کی تفصیل فرماتے ہوئے آخر میں یہ بھی فرمایاگیا ہے کہ دارالعلوم کا مسلمانوں سے : جمہوری تعلق : ہو جوایک کو دوسرے کا محتاج بنائے رکھے : * اسی بنیاد پر آپ نے دارالعلوم کے لئے مستقل آمدنی کا کوئی ذریعہ بنے ، اس سے بھی منع فرمایا : * یعنی مالی تعاون کی لائین سے دارالعلوم کا عام مسلمانوں سے احتیاجی رشتہ ہمیشہ قائم رہے ، * حکومت ، یاکسی رئیس کی دوامی امداد پر مستقل جائداد کی صورت میں تعاون سے منع فرمایا : * تاکہ عام مسلمانوں سے احتیاجی رشتہ دارالعلوم کا باقی رہے ! * حضرت امام الکبیر قاسم صاحب سے بعض سننے والوں نے یہ الفاظ بھی سنے تھے یعنی فرمایاکرتے تھے کہ : * دار العلوم اس وقت تک مستقل رہے گا ، جب تک اس کی آمدنی غیر مستقل رہے گی ، لیکن جس وقت اس کی آمدنی کا ذریعہ مستقل ہوجائے گا ، اسی وقت دارالعلوم کی بنیاد غیر مستقل ہوجائے گی ! * حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن رحمۂ اللہ علیہ سے بھی اسی قسم کے الفاظ منقول ہیں ! * حضرت قاسم صاحب نانتوی رحمۂ اللہ علیہ کی وصیت میں یہ تنبیہ بھی فرمائی گئی کہ : * اس مدرسہ ( دارالعلوم ) میں جب تک آمدنی کی کوئی سبیل یقینی نہیں ، تب تک یہ مدرسہ انشاء اللہ ، بذریعے توجہ الی اللہ اسی طرح چلتارہے گا ، اور اگر کوئی آمدنی ایسی یقینی حاصل ہوگئی ، جیسے جاگیر ، کارخانے ، تجارت ، یاکسی امیر محکم القول کا وعدہ ، تو یوں نظر آتاہے کہ یہ : خوف و رجاء : جو سرمایہ رجوع الی اللہ ہے ، ہاتھ سے جاتارہیگا ، اور امداد غیبی موقوف ہوجائےگی ، کارکنوں میں باہم : نزاع : پیدا ہوجائے گا ، ( صفحہ : ۵۸- ۴۸) * اور آگے فرماتے ہیں کہ : اسی طرح عدل وانصاف میں : غیرجانبدار ی اور رجوع الی اللہ : مدرسہ کی اصل پونجی اور وجہ تسمیہ ہے اسے قائم کرنے کی ! * صنعت وسیاست اچھی بھلی چیز ضرور ہے ، لیکن مذہبیت اعلی وارفع شئی ہے ، * تجارت ، سیاست ، صنعت وحرفت دین کے تابع ہیں ، اور دین و اسلام ان سب پر مقدم ہے ، ( سوانح قاسمی ) رئیس القلم : مناظر احسن گیلانی رحمہ اللہ علیہ ( درارالعلوم سرمایہ اکابر ہے ) * اس مادر علمی کے دو حصے ہوئے ، عقیدوں کی تبدیلی پر نہیں ، بلکہ دلی حرص وۂوس ، حب جاہ ، انانیت کی خباثت ، کی وجہ سے ، * انہیں رذیلات کے سبب ، اس مقدس روحانی درسگاہ کے ٹکڑے ہوئے ، آج ان بزرگوں کی ارواح تڑپ رہیں ہوں گی ! * مال جہاں داخل ہوجاتاہے وہاں روحانیت کو تہس نہس کرکے رکھدیتاہے ، * آج جو حالت دارالعلوم کی ہے ، اس کی وجہ اپنے بڑوں کی نصیحتوں کو پس پشت ڈالدینے کی وجہ سے ہے ، * مالی محبت ، اور جانداری ، یہی دونوں چیزیں نے مفتی ابوالقاسم صاحب کو جھوٹ پر جھوٹ بولنے پر مجبور کردیا ، فتنہ خبیثہ پاکستانی عالمی شوری کی پاسداری اور مولاناسعدصاحب سے ذاتی دشمنی ، * مفتی صاحب کی عزت کا ستیاناس کرڈالا ، ساری دنیا مفتی صاحب کو دیکھ رہی ہے سن رہی ہے ، * ہمیں مولاناارشدمدنی صاحب سے کوئی سروکار نہیں ، اس لئے کہ وہ حضرت نانتوی کے مدرسے کے منسب اہتمام پر فائق نہیں ہیں ، اور وہ تو ایک سیاسی شخصیت ہیں ، * ہمیں تو گلہ مفتی ابوالقاسم صاحب سے ہے ! * ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی معمولی غلطی نہیں کی آپ نے ، * ضرور اس غلطی کو کروانے کےلئے کوئی روپوش طاقت آپ کے پیچھے پڑی ہے ، ابھی وقت نہیں چلاگیا ، خدارا ! بتلاؤ تو صحیح کہ وہ کون سے لوگ ہیں اور کیوں آپ یہ کرنے پر مجبور ہوئے ، * کیوں دارالعلوم کا وقار مجروح کیا ؟ * کیا مادرعلمی کی تقدیس ہماری عزت نفس سے گئی گذری ہے ؟ * آپ کو ان ساری باتوں کا جواب دینا ہوگا ؟ * آپ اور مولاناارشد صاحب مدنی نے دارالعلوم کی عزت وحشمت کی دھجیاں بکھر کے رکھدی ! * کیوں اپنے اعلامیہ میں قسمیں کھاکر فرمایاکہ بنگلہ دیشی ہوم منسٹر کو خط نہیں بھیجا ؟ * کیوں قسمیں کھانی پڑی ؟ * کیوں لاکھوں تبلیغی بھائیوں کے جذبات کورونداگیا ؟ * ان سب کے باوجود اہتمام کی مقدس مسند کہ جس پر حضرت نانتوی ، حضرت گنگوہی ، حضرت حسین احمد مدنی جیسی پاکیزہ روحیں بیٹھا کرتی تھیں ، کیا ابھی بھی آپ خود کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ اہتمام پر برقرار و گامزن رہیں ؟ * سچ فرمایاتھا حضرت علی میاں ندوی رحمۂ اللہ علیہ نے کہ : تم ہر تحریک سے الجھ جاؤ تو کوئی بات نہیں ، مگر بھولے سے بھی تبلیغ اور اس کے مرکز سے نہ الجھو ! * یہ دعوتی محنت ایک ایسا پہاڑ ہے کہ اس پر سر مارو تو خود کاسر پھٹے گا تبلیغ کا اور ان کے مرکز کا کچھ نہ بگڑے گا ، * اس لئے کہ ان کی تحریک ہزار فیصدی اخلاص پر مبنی ہے ، * بڑے پرچہ ہاتھ میں تھمادیتے ہیں کہ وہاں جماعت لےکر چلاجاؤ ، تو کوئی پلٹ کر پوچھتابھی نہیں کہ ہم وہاں کیوں جائیں ؟ * حضرت مفتی صاحب اب وقت آپ کے رجوع کرنے کا ہے ! * اللہ تعالی ہماری خطاؤں کو معاف فرمائے : آمین (جاری ) محبوب Muslim Advisory Service
10 days ago
2:28
شیخ التفسیر حضرت مولنا محمد ادریس کاندھلوی رحمتہ اللہ علیہ تقسیم سے قبل دارلعلوم دیوبند میں شیخ التفسیر تھے. اس زمانے میں پچاس روپے ماہوار تنخواہ تھی. جس سے فقر و استغناء کے ساتھ گزر بسر کرتے، ایک دن اہلیہ محترمہ نے کہا میں نے سال بھر میں دو سو روپے کے لگ بھگ جمع کیا ہے ، آپ کے یہاں بڑے بڑے لوگ آتے ہیں اور فرش کی چٹائی پر بیٹھتے ہیں ان روپوں سے کرسیاں وغیرہ خرید لیں تا کہ سیٹھوں اور تاجروں کی حیثیت کے مطابق نشست کا انتظام ہو سکے، اہلیہ محترمہ نے عرض کیا: "میں چالیس روپے ماہوار میں بخوبی گزرکر لیتی ہوں." حضرت نے فرمایا: "ہمیں دنیا والوں سے کیا تعلق، ہمیں ان سے کیا لینا اور یہ ہمیں کیا دے سکتے ہیں؟ جس کو آنا ہے شوق سے آئے لیکن نشست چٹائی پر ہوگی اور فرشی ہوگی." دارلعلوم کے خزانچی کو بلوایا اور بیوی سے دو سو روپے لیے اور اس کے حوالے کردیے. فرمایا: "میاں! تنخواہ ہماری ضرورت سے زیادہ ہے، یہ رقم واپس لو اور آئندہ پچاس کی بجائے چالیس روپے ماہوار کردو۔ فائدہ: یہ ہمارے اکابرین تھے اور اگر میں یہ کہوں کہ ان لوگوں نے صحابہ رضی اللہ عنھم کی کامل اتباع کی اور ان پاک ہستیوں کی یاد اس فتنہ اور فساد کے دور میں تازہ کی تو اس میں کوئی مبالغہ نہ ہوگا. میں اس نسبت پر فخر نہ کروں تو کیوں نہ کروں؟اللہ جل جلالہ ان حضرات کی قبروں کو جنّت کے باغ بناے. آمین ثمّ آمین ۔ (بحوالہ حکایات اسلاف ص ٢٥٧) طالب دعاعطاء اللہ حلیمی ٢١ جمادی الاولی ١٤٣٩ ھ مطابق 8 فروری بروز جمعرات 2018 عیسوی ‏. . . ..... . اگر کوئی شخص اپنی بیٹی کو شہوت کے ساتھ ہاتھ لگا تا ہے. اس کا ارادہ بھی غلط ہوتا ہے. اس شخص کے متعلق کیا حکم ہے. کیا اس کے ایمان میں فرق پڑتاہے.اس کی بیوی کے متعلق کیا حکم ہے.نکاح میں کوئی فرق تو نہیں پڑتا. معافی کی کوئی گنجائش ہے. اسکی بیوی اس پر ہمیشہ کے لئے حرام ہوگئی۔ اور اسکو چاہیئے کہ اللہ سے پکی سچی توبہ کرے کیونکہ اس نے بہت سنگین گناہ کیا ہے واللہ اعلم بالصواب
10 days ago
1:50
بچے کی نفسیات کو سمجھنے کے 12 گُن والدین کی حیثیت سے آپ اپنے بچے کو پیدائش کے دن سے سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔ بلاشبہ ایک ذمہ دار والدین کی حیثیت سے یہ آپ کے لیے سب سے ضروری بات ہے۔ دانت کے درد کی تکلیف سے لے کر پیٹ کے درد تک اور نیپی بدلنے سے لے کر لڑکپن کے مسائل تک بچوں کو سمجھنا آسان نہیں ہوتا۔ بچوں کو سمجھنا ان کی بہتر پرورش کے لیے بہت ضروری ہے۔ آپ کا بچہ خاص شخصیت کا حامل ہے اور یہ خصوصیت ساری زندگی اس کے ساتھ رہتی ہے۔ آپ کا رویہ بچے کی شخصیت کے مطابق ہو نہ کہ آپ اس کی شخصیت کو بدلنے کی کوشش کریں۔ بچے کی نفسیات کو سمجھنا ایک صبر آزما کام ہے۔درج ذیل طریقوں سے آپ کو اپنے بچے کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کر کے اسے سمجھنے میں مدد ملے گی : 1۔مشاہدہ کیجئے اپنے بچے کی مصروفیات پر نظر رکھیں۔اس طرح آپ کو یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ آپ کا بچہ کیسے کھیلتا ہے کیسے کھاتا ہے اور کس طرح دوسروں سے بات چیت کرتا ہے۔ ۔آپ کو اس کی بہت سی خوبیوں سے آگاہی ہوگی۔ ۔مشاہدہ کیجئے کہ آیا آپ کا بچہ کسی تبدیلی میں جلد رچ بس جاتا ہے یا وقت لیتا ہے۔ ۔سارے بچے ایک جیسی خوبیوں کے حامل نہیں ہوتے،یاد رکھئے ہر بچے کی الگ شخصیت ہوتی ہے۔ 2۔ دوست کی حیثیت سے پیش آئیں بچے کے ساتھ دوست کی طرح پیش آئیں اس طرح آپ کا بچہ آپ کے بہت قریب آجاتا ہے لیکن ساتھ ہی کچھ حدود کا خیال رکھیں۔اگر وہ کوئی غلطی کرتا ہے تو اسے مورد الزام ٹہرانے کے بجائے دوست کی حیثیت سے فیصلہ دیجئے۔کیوں کہ اگر آپ والدین کی حیثیت سے فیصلہ کریں گے تو وہ قدرے مختلف ہوگا۔اور اس طرح آپ کا بچہ آپ سے کوئی بات شئیر نہیں کرے گا۔صرف یہی نہیں بلکہ اسے بھی موقعہ دیں کہ وہ آپ کی بات سمجھ سکے۔ 3۔ بچے کے ساتھ وقت گزاریں اپنے بچے کے ساتھ زیادہ وقت گزاریں تاکہ آپ اسکو اور اسکے دوستوں کو جان سکیں،اور وہ بھی آپ سے اپنے مسائل شیئر کرسکے۔ آپ کتنے ہی مصروف ہوں اسے تھوڑا وقت ضرور دیں تاکہ اسے پتہ ہو کہ آپ اس کی مدد کے لئے موجود ہیں۔ 4۔ بچے کو ذمہ دار بنائیے اپنے بچے کو کم عمری ہی سے اس کی ذمہ داریوں سے آگاہ کریں۔ اگر وہ بغیر گرائے کپ میں دودھ نکالتا ہے، یا کھیلنے کے بعد اپنے کھلونے واپس ڈبے میں رکھتا ہے تو یہ اس کے ذمہ دار ہونے کی نشانی ہے اس کی حوصلہ افزائی کریں۔اس کی تعریف کیجئے۔ تاکہ وہ اور زیادہ شوق سے اپنا کام خود کرے۔ 5۔ بات سنئے اپنے بچے کی بات رد کرنے کی بجائے غور سے سنیں اگر آپ اس سے متفق نہیں ہیں تواسے اپنے خیالات سے آگاہ کریں۔ 6۔اس پر الزام تراشی نہ کریں اگر وہ کوئی غلطی کرتا ہے تو اسے بتائیں کہ اس نے جو کیا وہ صحیح نہیں تھا۔ لیکن آپ اب بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ 7۔ اپنے بچے کو پر اعتماد بنائیں اس میں اعتماد پیدا کریں۔اگر اسکا اسکول میں پہلا دن ہے تو اس سے اسکول کے بارے میں پوچھیں،اس نے اسکول میں کیا پڑھا،اسے اپنا ٹیچر کیسا لگا،اس نے کوئی دوست بنایا یا نہیں۔اس کا اعتماد بڑھائیں تاکہ وہ دوست بنانے کے ساتھ نئے اسکول کا بہتر انداز میں سامنہ کر سکے۔ 8۔گھریلو معاملات میں اس کی رائے لیں اگر آپ گھر کے معاملات میں بچے سے رائے لیتے ہیں تو وہ اپنے آپ کو بہت اہم سمجھے گا اور زیادہ ذمہ دار بن جائے گا۔گھر کی سیٹنگ ہو یاکمرے کو نئے سرے سے ترتیب دے رہے ہیں اس میں اپنے بچے کی رائے لیں اور اس میں چھپے منصوبے پر غور کریں بجائے اس کے کہ اس کی غلطیاں نکالیں۔ اس طرح آپ کے بچے میں اعتماد پیدا ہوگا اور قوت فیصلہ میں بھی اضافہ ہوگا۔ 9۔ بچے کی ذاتی دلچسپیوں سے واقفیت رکھئے بچے کی پرورش پر دھیان دینے کے ساتھ اس کی ذاتی پسندنا پسند سے بھی واقفیت ضروری ہے۔ اپنے بچے سے اس کے پسندیدہ مضمون، پسندیدہ کھیل اور ٹی وی پروگرام کے بارے میں بات کیجئے۔ اسے اس کی پسندیدہ فلم دکھائیے یا اس کے ساتھ اس کا پسندیدہ کھیل دیکھئے۔ اس طرح آپ کو اپنے بچے کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ 10 ۔ اپنے وعدے پر قائم رہیں اپنے بچے سے کئے ہوئے وعدے کو پورا کرکے آپ اس کا دل جیت لیں گے۔ چاہے وہ ساحل سمندر پر جانے کا ہو یا سپر مارکیٹ کا، اپنے وعدے پر قائم رہئے اس طرح آپ کے بچے میں بھی ایمانداری بڑھے گی۔ 11۔ اسے آزادی دیجئے ہر وقت اپنی مرضی چلانے کی بجائے اپنے بچے کو آزادی دیجئے، اسے اس کی پسند کے کام کرنے دیں لیکن اس کے قریب رہیں تاکہ وہ کوئی غلطی نہ کرے اور ضرورت پڑنے پر اس کی رہنمائی کریں۔ 12۔بچے کو بچہ ہی رہنے دیں بچے سے زیادہ امید نہ رکھیں اگر وہ غلطی کرتا ہے تو اس سے بہت کچھ سیکھے گا۔اسے کسی کام سے روکنے کی بجائے احتیاط کرنا سکھائیں۔
10 days ago
1:08
ہمارا کردار ماہنامہ الرشد دسمبر 2017 الشیخ حضرت امیر محمد اکرم اعوان رحمہ اللہ تعالی علیہ (اقتباس) اصول یہ ہے کہ مسجد میں دنیا کی بات کرنا حرام ہے۔ خواہ آپ سرگوشی میں کریں،خواہ آپ شور کر کے کریں تو کئی اجتماعات سے میں سُن رہا ہوں ۔ جیسے ہی دروازہ کھولتا ہوں تو پوری مسجد میں مکھیوں کی بھنبھناہٹ چھائی ہوتی ہے۔ہر کوئی بات کر رہا ہوتا ہےپھر مجھے دیکھ کر چپ ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ پھر کرتے رہیں۔ جو کام آپ اللہ کے سامنے ،اللہ سے ڈر کر نہیں بند کرتے تو میرے سامنےبند کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ میں بھی آپ ہی کی طرح کا ایک انسان ہوں۔ پھر دہرا دوں کہ مسجد میں دنیوی(دنیاوی) بات کرنا حرام ہے۔ میرے پاس المرشد میں سوال آیا تھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ساری باتیں مسجد میں ہی ہوتی تھیں۔سارے سیاسی امور بھی مسجد میں نمٹائے جاتے تھے۔جنگ وجدل کی،صلح کی ساری باتیں یہیں ہوتی تھیں تو پھر مسجد میں باتیں کرنے کی ممانعت کیسے؟ یاد رکھو اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو کرتا ہے وہ دین ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو کرتے تھے وہ دین ہے،وہ دنیا نہیں ہے۔ ہم نبی نہیں ہیں،ہمیں اتباع کرنا ہے،ایک بات دوسری بات جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھےسارا دین کے بارےمیں ہوتا تھا۔جو صحابہ عرض کرتے تھے،سارا دین کے بارے تھا۔جو سوال کرتے تھے ،دین تھا۔آج تک ہماری راہنمائی انہی سوالوں سے ہوتی ہے۔بات کرتے تھے تو احکامِ شریعت کے مطابق کرتے تھے۔جہاد ،امورِسلطنت،اللہ کے دین کے مطابق نمٹانا یہ دنیا نہیں،یہ دین ہے۔ خود کو اس جگہ نہ لے جاؤ، اپنی حیثیت دیکھو۔ ایک دِیا جو وہ بھی بُجھا ہوا ہو وہ یہ کہے کہ سورج ایسا کرتا ہے،میں بھی کروں گا۔ ذات کا دیا ہو اور وہ جل بھی نہ رہا ہو اور وہ سورج کے ساتھ اپنی مثال جوڑے۔ دوبارہ کہہ رہا ہوں سمجھ لو کہ باتیں کرنی ہیں تو باہر جا کر باتیں کر لو،پھر آ جاؤ۔ یہاں کرنی ہیں تو ذکر کے بارے کرو،لطائف کا پوچھو۔کسی سے مراقبات کا پوچھو۔جو شرعی مسئلہ پوچھنا ہے ،سب جائز ہے، دنیا کی بات حرام ہے۔ آپ کب آئے،کس وقت جانا ہے،کس سواری پہ آئے ہو،کوئی سیٹ ہے تمہارے پاس؟ یہ سارا حرام ہے۔ خواہ آپ سرگوشیوں میں کریں خواہ آپ بلند آواز میں کریں تو اپنے آپ کو سنبھالیں۔ مسجد میں آئیں تو دنیا باہر رکھ کر آئیں۔ٹیلی فون مسجد سے ہورہی ہیں،موبائل مسجد میں سنے جارہے ہیں،Facebook مسجد میں پڑھی جا رہی ہے۔یہ سب حرام ہے،کوئی روکے نہ روکے۔ حد یہ ہے کہ مسجد میں بیٹھ کر سیلفیاں بھیجی جا رہی ہیں۔یہ خیال ہی نہیں کہ ہم کس کی بارگاہ میں بیٹھے ہیں؟ کیا حیثیت ہے ان حکمرانوں کی بارگاہ رسالت کے مقابلے میں۔پھر بھی وہاں دیکھیں۔ ڈپٹی کمشنر ایک چھوٹا سا پرزہ ہے حکومت کا۔ضلع کا ایک Head ہے۔کیا اس کے دفتر میں بیٹھ کر گھر سیلفی بھیج سکتے ہیں؟ جرأت کریں گے۔۔کہ یہ دیکھیں یہ ڈی سی صاحب بیٹھے ہیں ،یہ میں بیٹھا ہوں،دوستوں کو بھیجوں؟ تو مسجدِ نبوی سے بھیجنے کی جرأت کیوں کرتے ہیں؟ بیت اللہ سے بھیجنے کی جرات کیوں کرتے ہیں؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو ادراک ہی نہیں، آپ کے لیئے ایک کوٹھا ہے،اوپر غلاف ہے،اللہ اللہ خیر صلا،اور وہاں کچھ بھی نہیں۔۔ مسجد نبوی میں سیلفیاں بھیجنے والوں کے تصور میں ایک مقبرہ ہے اور مسجد ہے،اور کیاہے۔۔سیلفیاں بناؤ اور فوٹو بناؤ،بھیجو جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جلوہ افروز ہوں ،کوئی بندہ وہاں جائے،کیا وہ سیلفی یا فوٹو بنائے گا۔۔؟ شرعاً روضہ اطہر صلی اللہ علیہ وسلم کا آج بھی وہی ادب ہے جو دنیوی زندگی میں بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا۔ قبرِ اطہر میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندہ موجود ہیں،یہ اور بات کہ عالم بدل گیا،دنیوی زندگی نہیں ہے۔اس پر دنیا کے احکام وارد نہیں ہوں گے۔ موسم برزخ کا ہو گا،گرمی سردی،دن رات وہ برزخ کے ہوں گے،دنیا کے نہیں۔ عالم بدل گیا زندگی نہیں بدلی۔ یہ مساجد بھی تو اللہ کا گھر ہیں۔ جسے بات کرنی ہو،مجبوری ہو،ساتھی کو لے کر دروازے کے باہر چلا جائے،بات کر لے پھر آ جائے۔مسجد میں داخل ہوتے وقت ٹیلیفون بند کر دیں،آف کر دیں۔باہر جا کربات کر لیں۔میں یہ چاہتا ہوں کہ آئندہ میں آؤں یا نہ آؤں۔میں ہوں یا نہ ہوں۔مسجد میں کوئی شخص دنیا کی باتیں نہیں کرے گا اور یہ آپ کے اپنے لیئے ضروری ہے۔ ورنہ کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ آپ کا یہ آنا جانا سیر سپاٹا رہ جائے گا،حاصل وصول کچھ نہیں ہو گا۔تو کم ازکم اپنی محنت کا تو خیال رکھنا چاہئے۔۔۔ #مولانا_محمد_اکرم_اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ دارالعرفان،منارہ۔ضلع چکوال
10 days ago
3:26
قسط (۳۱۷) دارالعلوم دیوبند، امام الکبیر حضرت نانتوی، مفتی ابوالقاسم صاحب کا جھوٹ، جگ ہنسائی، نانتوی رحمۂ اللہ علیہ کی وصیت (دعوتی کام اور اس کااسلوب) الحمدللّٰہ وحدہ والصلاۂ والسلام علی من لانبی بعدہ - امابعد: * دارالعلوم دیوبند اور حضرت امام الکبیر مولانا قاسم صاحب نانتوی رحمۂ اللہ علیہ کی وصیت: * دارالعلوم دیوبند کے انتظامی امور سے متعلق مولانا قاسم صاحب نانتوی رحمۂ اللہ علیہ نے اپنے دست مبارک سے ایک وصیت تحریر فرمائی تھی، جس کاعموما تذکرہ کیا جاتا رہا ہے کہ دارالعلوم کے خزانے میں یہ تحریر آج بھی محفوظ ہے، * بدقسمتی سے براہ راست یا کسی اور ذریعے سے یہ تحریر عوام میں نہیں آئی، لیکن بہ تواتر بزرگوں سے یہ سناجاتا رہا ہے کہ اس تحریر خاص میں امام الکبیر مولانا قاسم صاحب نانتوی رحمۂ اللہ علیہ نے بطور وصیت نامہ کے ان بنیادی باتوں کو قلم بند فرمایا ہے کہ جن پر آپ نے اس دارالعلوم کی بنیاد قائم فرمائی تھی اور وصیت فرمائی گئی ہے کہ آئندہ جن لوگوں کے ہاتھوں میں دارالعلوم کے نظم ونسق کی باگ آئے، وہ ان کلیات کی روح کی حفاظت کے ذمہ دار ہوں گے ، * بہرحال مجلہ: القاسم: کے دارالعلوم نمبر مجریہ سنہ (۱۳۴۷) ہجری کے حوالہ سے: تحریر خاص: کے مشتملات ومضامین کو نقل کرتے ہوئے، ناظم مرکزی جمعیۂ العلماء (دہلی) مولانا سید محمد میاں صاحب نے: علمائے ہند کے شاندار ماضی: میں من جملہ دوسری دفعات کے ایک دفعہ کا ذکر ان الفاظ میں فرمایاہے کہ : * اس کا یعنی (دارالعلوم) کا * تعلق عام مسلمانوں سے زائد سے زائد ہو، تاکہ یہ تعلق خود بخود مسلمانوں میں ایک نظم پیداکرے، جوان کواسلام اور مسلمانوں کی اصل شکل پر قائم رکھنے میں معین ہو! * آگے اسی مقصد کی تفصیل فرماتے ہوئے آخر میں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ دارالعلوم کا مسلمانوں سے: جمہوری تعلق: ہو جوایک کو دوسرے کا محتاج بنائے رکھے: * اسی بنیاد پر آپ نے دارالعلوم کے لئے مستقل آمدنی کا کوئی ذریعہ بنے، اس سے بھی منع فرمایا: * یعنی مالی تعاون کی لائن سے دارالعلوم کا عام مسلمانوں سے احتیاجی رشتہ ہمیشہ قائم رہے، * حکومت، یا کسی رئیس کی دوامی امداد پر مستقل جائداد کی صورت میں تعاون سے منع فرمایا: * تاکہ عام مسلمانوں سے احتیاجی رشتہ دارالعلوم کا باقی رہے! * حضرت امام الکبیر قاسم صاحب سے بعض سننے والوں نے یہ الفاظ بھی سنے تھے یعنی فرمایاکرتے تھے کہ : * دار العلوم اس وقت تک مستقل رہے گا، جب تک اس کی آمدنی غیر مستقل رہے گی، لیکن جس وقت اس کی آمدنی کا ذریعہ مستقل ہوجائے گا، اسی وقت دارالعلوم کی بنیاد غیر مستقل ہوجائے گی! * حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن رحمۂ اللہ علیہ سے بھی اسی قسم کے الفاظ منقول ہیں! * حضرت قاسم صاحب نانتوی رحمۂ اللہ علیہ کی وصیت میں یہ تنبیہ بھی فرمائی گئی کہ: * اس مدرسہ (دارالعلوم) میں جب تک آمدنی کی کوئی سبیل یقینی نہیں، تب تک یہ مدرسہ انشاء اللہ، بذریعے توجہ الی اللہ اسی طرح چلتارہے گا ، اور اگر کوئی آمدنی ایسی یقینی حاصل ہوگئی، جیسے جاگیر، کارخانے، تجارت، یاکسی امیر محکم القول کا وعدہ، تو یوں نظر آتاہے کہ یہ: خوف و رجاء: جو سرمایہ رجوع الی اللہ ہے، ہاتھ سے جاتارہیگا، اور امداد غیبی موقوف ہوجائےگی، کارکنوں میں باہم : نزاع: پیدا ہوجائے گا، (صفحہ : ۵۸- ۴۸) * اور آگے فرماتے ہیں کہ: اسی طرح عدل وانصاف میں: غیرجانبدار ی اور رجوع الی اللہ : مدرسہ کی اصل پونجی اور وجہ تسمیہ ہے اسے قائم کرنے کی! * صنعت وسیاست اچھی بھلی چیز ضرور ہے ، لیکن مذہبیت اعلی وارفع شئی ہے، * تجارت، سیاست، صنعت وحرفت دین کے تابع ہیں ، اور دین و اسلام ان سب پر مقدم ہے ، ( سوانح قاسمی ) رئیس القلم : مناظر احسن گیلانی رحمہ اللہ علیہ (درارالعلوم سرمایہ اکابر ہے) * اس مادر علمی کے دو حصے ہوئے، عقیدوں کی تبدیلی پر نہیں، بلکہ دلی حرص وۂوس، حب جاہ، انانیت کی خباثت ، کی وجہ سے، * انہیں رذیلات کے سبب ، اس مقدس روحانی درسگاہ کے ٹکڑے ہوئے ، آج ان بزرگوں کی ارواح تڑپ رہیں ہوں گی ! * مال جہاں داخل ہوجاتاہے وہاں روحانیت کو تہس نہس کرکے رکھدیتاہے ، * آج جو حالت دارالعلوم کی ہے ، اس کی وجہ اپنے بڑوں کی نصیحتوں کو پس پشت ڈالدینے کی وجہ سے ہے ، * مالی محبت ، اور جانداری ، یہی دونوں چیزیں نے مفتی ابوالقاسم صاحب کو جھوٹ پر جھوٹ بولنے پر مجبور کردیا ، فتنہ خبیثہ پاکستانی عالمی شوری کی پاسداری اور مولاناسعدصاحب سے ذاتی دشمنی ، * مفتی صاحب کی عزت کا ستیاناس کرڈالا ، ساری دنیا مفتی صاحب کو دیکھ رہی ہے سن رہی ہے ، * ہمیں مولاناارشدمدنی صاحب سے کوئی سروکار نہیں ، اس لئے کہ وہ حضرت نانتوی کے مدرسے کے منسب اہتمام پر فائق نہیں ہیں ، اور وہ تو ایک سیاسی شخصیت ہیں ، * ہمیں تو گلہ مفتی ابوالقاسم صاحب سے ہے ! * ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی معمولی غلطی نہیں کی آپ نے ، * ضرور اس غلطی کو کروانے کےلئے کوئی روپوش طاقت آپ کے پیچھے پڑی ہے ، ابھی وقت نہیں چلاگیا ، خدارا ! بتلاؤ تو صحیح کہ وہ کون سے لوگ ہیں اور کیوں آپ یہ کرنے پر مجبور ہوئے ، * کیوں دارالعلوم کا وقار مجروح کیا ؟ * کیا مادرعلمی کی تقدیس ہماری عزت نفس سے گئی گذری ہے ؟ * آپ کو ان ساری باتوں کا جواب دینا ہوگا ؟ * آپ اور مولاناارشد صاحب مدنی نے دارالعلوم کی عزت وحشمت کی دھجیاں بکھر کے رکھدی ! * کیوں اپنے اعلامیہ میں قسمیں کھاکر فرمایاکہ بنگلہ دیشی ہوم منسٹر کو خط نہیں بھیجا ؟ * کیوں قسمیں کھانی پڑی ؟ * کیوں لاکھوں تبلیغی بھائیوں کے جذبات کورونداگیا ؟ * ان سب کے باوجود اہتمام کی مقدس مسند کہ جس پر حضرت نانتوی ، حضرت گنگوہی ، حضرت حسین احمد مدنی جیسی پاکیزہ روحیں بیٹھا کرتی تھیں ، کیا ابھی بھی آپ خود کو اس قابل سمجھتے ہیں کہ اہتمام پر برقرار و گامزن رہیں ؟ * سچ فرمایاتھا حضرت علی میاں ندوی رحمۂ اللہ علیہ نے کہ : تم ہر تحریک سے الجھ جاؤ تو کوئی بات نہیں ، مگر بھولے سے بھی تبلیغ اور اس کے مرکز سے نہ الجھو ! * یہ دعوتی محنت ایک ایسا پہاڑ ہے کہ اس پر سر مارو تو خود کاسر پھٹے گا تبلیغ کا اور ان کے مرکز کا کچھ نہ بگڑے گا ، * اس لئے کہ ان کی تحریک ہزار فیصدی اخلاص پر مبنی ہے ، * بڑے پرچہ ہاتھ میں تھمادیتے ہیں کہ وہاں جماعت لےکر چلاجاؤ ، تو کوئی پلٹ کر پوچھتابھی نہیں کہ ہم وہاں کیوں جائیں؟ * حضرت مفتی صاحب اب وقت آپ کے رجوع کرنے کا ہے ! * اللہ تعالی ہماری خطاؤں کو معاف فرمائے : آمین (جاری) محبوب Muslim Advisory Service ....... . . معروف کولمبین افسانہ نگار ﮔﯿﺒﺮﯾﻞ ﮔﺎﺭﺳﯿﺎﻣﺎﺭﮐﯿﺰ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺍُﺳﮯ ﺑُﻮﮌﮬﺎ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﭼﮭﯿﮍﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺗﻤﺴﺨﺮ ﺍُﮌﺍﺗﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﯾﮧ ﺣﺴﺎﺱ ﺍﺩﯾﺐ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﮐﺎ ﺯﯾﺮﮎ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺎﺭ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺗﺤﻤﻞ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﺞ ﺭﺍﺋﯽ ﭘﺮ ﻣﺒﻨﯽ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺳﻨﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺳﺐ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺧﻨﺪﮦﺀ ﺍﺳﺘﮩﺰﺍ ﻣﯿﮟ ﺍُﮌﺍ ﺩﯾﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻝ ﺑُﺮﺍ ﻧﮧ ﮐﺮﺗﺎ۔ 1947 ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮔﯿﺒﺮﯾﻞ ﮔﺎﺭﺳﯿﺎ ﻣﺎﺭﮐﯿﺰ ﻧﮯ ﻧﯿﺸﻨﻞ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﮯ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻠﮧ ﻟﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺑﻌﺾ ﻧﺎﮔﺰﯾﺮ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﯾﮧ ﺑﯿﻞ ﻣﻨﮉﮬﮯ ﻧﮧ ﭼﮍﮪ ﺳﮑﯽ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺻﺤﺎﻓﺖ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﯿﺎ۔ ﺣﺎﻻﺕِ ﺣﺎﺿﺮﮦ ﺍﻭﺭ ﺻﺤﺎﻓﺖ ﺳﮯ ﺍُﺳﮯ ﻗﻠﺒﯽ ﻟﮕﺎﺅ ﺗﮭﺎ۔ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ کے ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻣﺜﺒﺖ ﺷﻌﻮﺭ ﻭ ﺁﮔﮩﯽ ﮐﻮ ﭘﺮﻭﺍﻥ ﭼﮍﮬﺎﻧﺎ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺍﮨﻢ ﺗﺮﯾﻦ ﺗﻘﺎﺿﺎ ﮨﮯ۔ ﯾﮩﯽ ﻭﺟﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﺮ ﺣﺮﯾﺖ ِ ﻓﮑﺮ ﻭ ﻋﻤﻞ ﭘﺮ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﻣﻌﻨﻮﯾﺖ ﮐﻮ ﺍُﺟﺎﮔﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻣﻘﺪﻭﺭ ﺑﮭﺮ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ۔ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺁﻑ ﮐﺎﺭﭨﺎﮔﯿﻨﺎﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﺍﻟﺘﺤﺼﯿﻞ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍِﺱ ﯾﮕﺎﻧﮧ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﻓﺎﺿﻞ ﻧﮯ ﺻﺤﺎﻓﺖ، اﻓﺴﺎﻧﮧ ﻧﮕﺎﺭﯼ ،ﻧﺎﻭﻝ ﻧﮕﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻢ ﺑﺸﺮﯾﺎﺕ ﻣﯿﮞ اﭘﻨﯽ ﺻﻼﺣﯿﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﮬﺎﮎ ﺑﭩﮭﺎ ﺩﯼ۔ 1958 ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺷﺎﺩ ﯼ ﻣﺮﺳﯿﮉﺱ ﺑﺎﺭﭼﺎ ﺳﮯ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﻮ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﺳﺎﻝ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﺑﺎﮨﻤﯽ ﺍﻓﮩﺎﻡ ﻭ ﺗﻔﮩﯿﻢ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﻤﺎﻥ ِ ﻭﻓﺎ ﮐﯽ ﺍﺳﺎﺱ ﭘﺮ ﺍﺳﺘﻮﺍﺭ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﻻ ﯾﮧ ﺑﻨﺪﮬﻦ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﮐﺎﻡ ﯾﺎﺏ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺑﯿﭩﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ ۔ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﯿﭩﮯ ﺍﺏ ﻋﻤﻠﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻓﻌﺎﻝ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﺩﺍ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺍﺏ ﺑﯿﻮﮔﯽ ﮐﯽ ﭼﺎﺩﺭ ﺍﻭﮌﮬﮯ ﻣﺮﺳﯿﮉﺱ ﺑﺎﺭﭼﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻈﯿﻢ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍُﺳﮯ ﺁﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﺎ ﻧﺬﺭﺍﻧﮧ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﻭﺳﯿﻊ ﺍﻟﻤﻄﺎﻟﻌﮧ ﺍﺩﯾﺐ ﺍﻭﺭ ﺟﺮﯼ ﺻﺤﺎﻓﯽ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺳﮯ ﮔﺒﺮﯾﻞ ﮔﺎﺭﺳﯿﺎ ﻣﺎﺭﮐﯿﺰ ﻧﮯ ﻋﺎﻟﻤﯽ ﺍﺩﺑﯿﺎﺕ ﮐﺎ ﻋﻤﯿﻖ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺑﯿﺴﻮﯾﮟ ﺻﺪﯼ ﮐﮯ ﺍﺩﺏ ﭘﺮ ﮔﮩﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﭨﮭﻮﺱ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺑﻞِ ﻋﻤﻞ ﻻﺋﺤﮧﺀﻋﻤﻞ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﮐﯿﺎ ۔ﺑﺮﻃﺎﻧﯿﮧ ﮐﯽ ﺍﺩﯾﺒﮧ ﻭﺭﺟﯿﻨﺎ ﻭﻭﻟﻒ ﮐﯽ ﺗﺼﺎﻧﯿﻒ ﺍُﺳﮯ ﭘﺴﻨﺪ ﺗﮭﯿﮟ ۔ﻧﻮﺑﻞ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﺍﻣﺮﯾﮑﯽ ﺍﺩﯾﺐ ﻭﻟﯿﻢ ﻓﺎﻟﮑﺮﮐﮯ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﻗﺪﺭ ﮐﯽ ﻧﮕﺎﮦ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ۔ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺑﯿﺴﻮﯾﮟ ﺻﺪﯼ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻣﻮﺛﺮ ﺍﻭﺭ ﺟﺪﯾﺪﯾﺖ ﮐﮯ ﻋﻠﻢ ﺑﺮﺩﺍﺭ ﺟﺮﻣﻦ ﺍﺩﯾﺐ ﻓﺮﺍﻧﺰ ﮐﺎﻓﮑﺎﺳﮯ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﮔﮩﺮﮮ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﯿﮯ ۔ ﮔﯿﺒﺮﯾﻞ ﮔﺎﺭﺳﯿﺎ ﻣﺎﺭﮐﯿﺰ ﻧﮯ ﺟﺐ ﻓﺮﺍﻧﺰ ﮐﺎﻓﮑﺎ ﮐﮯ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﮐﺎ ﺑﮧ ﻧﻈﺮ ﻏﺎﺋﺮ ﺟﺎﺋﺰﮦ ﻟﯿﺎ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﺷﮏ ﮐﮯ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﭘﯿﺪ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮧ ﯾﮩﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﺎ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺎﺭ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺟﯿﺴﺎ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﯽ ﺗﻤﻨﺎ ﮐﯽ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ۔ ﮔﯿﺒﺮﯾﻞ ﮔﺎﺭﺳﯿﺎ ﻣﺎﺭﮐﯿﺰ ﮐﮯ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺭﯾﺦ ،ﺗﮩﺬﯾﺐ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﺷﺮﺕ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﺜﺒﺖ ﺷﻌﻮﺭ ﻭ ﺁﮔﮩﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﻮﺗﮯ ﺍﺩﺏ ﮐﮯ ﻭﺳﯿﻊ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﺳﮯ ﭘُﮭﻮﭨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻘﯽ ﻓﻌﺎﻟﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﻼﺳﯿﮑﯽ ﺍﺩﺏ ﺍﻭﺭ ﺟﺪﯾﺪ ﺍﺩﺏ ﮐﯽ ﺍﻗﺪﺍﺭ ﻭ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﮐﺎ ﺣﺴﯿﻦ ﺍﻣﺘﺰﺍﺝ ﭘﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ﺗﺎﮨﻢ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺗﺰﮐﯿﮧ ﻧﻔﺲ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﻮ ﻃﺮﺯِ ﻓﻐﺎﮞ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﭘﮩﭽﺎﻥ ﺑﻦ ﮔﺌﯽ۔ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺑﺼﯿﺮﺕ ﮐﺎ ﺍﺛﺒﺎﺕ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ﻣﻮﺿﻮﻋﺎﺕ ﮐﮯ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﺍِﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﻧﯿﺜﯿﺖ ،ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﺭﯼ ﻧﻈﺎﻡ ﮐﯽ ﻣﺨﺎﻟﻔﺖ ﺩﯾﮩﯽ ﺗﮩﺬﯾﺐ ﻭ ﻣﻌﺎﺷﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﺟﺴﻢ ﻓﺮﻭﺵ ﺭﺫﯾﻞ ﻃﻮﺍﺋﻔﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻨﺴﯽ ﺟﻨﻮﻥ ﮐﯽ ﮐﮩﺎﻧﯿﺎﮞ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻧﮕﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﻓﻄﺮﺕ ﻧﮕﺎﺭﯼ ﭘﺮ ﺗﻮﺟﮧ ﺩﯼ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ﻗﺎﺑﻞِ ﺫﮐﺮ ﮨﯿﮟ ۔ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺍﮨﻢ ﺗﺮﯾﻦ ﺗﺼﺎﻧﯿﻒ ﺩﺭﺝ ﺫﯾﻞ ﮨﯿﮟ : 1.One Hundred Years of Solitude 2.The Autumn of Patriarch 3.Love in the Time of Cholera ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥِ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻮ ﮔﯿﺒﺮﯾﻞ ﮔﺎﺭﺳﯿﺎ ﻣﺎﺭﮐﯿﺰ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺼﯿﻨﻒ ”Lave in the Time of Cholera“ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺮﺍﯾﮧ ﺀﺍﻇﮩﺎﺭ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔ﻣﺼﻨﻒ ﮐﯽ ﮔُﻞ ﺍﻓﺸﺎﻧﯽ ﺀﮔﻔﺘﺎﺭ ﻗﺎﺭﯼ ﮐﻮ ﻣﺴﺤﻮﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ۔ﻣﺤﺒﺖ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﭼﻨﮕﺎﺭﯼ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﮭﮍﮎ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ۔ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺗﺎﺛﺮ ﻏﻠﻂ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺑﮍﮬﺎﭘﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ۔ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺭﺍﺋﮯ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻣﻼﺯﻣﺖ ﺗﻮ ﮨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺳﺎﭨﮫ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺭﯾﭩﺎﺋﺮﻣﻨﭧ ﭘﺮ ﻣﻨﺘﺞ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻣُﻼﺯﻡ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻣﻼﺯﻣﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﮨﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ۔ﮔﯿﺒﺮﯾﻞ ﮔﺎﺭﺳﯿﺎ ﻣﺎﺭﮐﯿﺰﺍﭘﻨﮯ ﻣﺸﺎﮨﺪﺍﺕ ﮐﯽ ﺑﺎﻥ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺭﺍﺋﮯ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﻭ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﺣﺪﻭﺩِ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﯿﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮫ ﺳﮑﺘﮯ۔ﮔﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺒﺶ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻣﮕﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺩﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ،ﻭﮦ ﺣُﺴﻦ ﮐﮯ ﺟﻠﻮﻭﮞ ﺳﮯ ﻓﯿﺾ ﯾﺎﺏ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﮨﻮ؟۔ﺑﮯ ﺷﮏ ﺍﻋﻀﺎ ﻣﻀﻤﺤﻞ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮞﺎﻭﺭ ﻋﻨﺎﺻﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻋﺘﺎﻝ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﻓﻘﺪﺍﻥ ﮨﻮ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺟﺎﺩﻭ ﺳﺮ ﭼﮍﮪ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﮔﯿﺒﺮﯾﻞ ﮔﺎﺭﺳﯿﺎ ﻣﺎﺭﮐﯿﺰ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﻌﺾ ﻋﺸﺎﻕ ﺗﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺳُﻨﮩﺮﯼ ﺩﻧﻮﮞﯿﻌﻨﯽ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺳﺘﺮ ﺑﺮﺱ ﮐﮯ ﮨﻮ ﭼُﮑﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺣﺴﯿﻨﮧ ﮐﯽ ﺯﻟﻒِ ﮔﺮﮦ ﮔﯿﺮ ﮐﮯ ﺍﺳﯿﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﺍﺱ ﻣﺮﺣﻠﮧ ﺀﺯﯾﺴﺖ ﻣﯿﮞﮩﺮ ﺳُﻮ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺟﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﻭﺍﻟﮩﺎﻧﮧ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺳﺪِ ﺭﺍﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﮯ ۔ﮔﺒﺮﯾﻞ ﮔﺎﺭﺳﯿﺎ ﻣﺎﺭﮐﯿﺰ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﻣﻌﻤﺮ ﺟﻮﮌﮮ ﮐﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻥِ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺍﺣﻮﺍﻝ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺧﻠﻮﺹ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﮯ ﺭﺷﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﺴﻠﮏ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻋﮩﺪ ﻭﻓﺎ ﺍﺳﺘﻮﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﻋﻼﺝِ ﮔﺮﺩﺵ ِ ﻟﯿﻞ ﻭ ﻧﮩﺎﺭ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍُﺳﮯ ﮔﻮﺭ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﭘﺎﯾﮧ ﺀﺗﮑﻤﯿﻞ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ۔ﻋﺸﻖ ﺧﻮﺍﮦ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﮐﺎ ﮨﻮ ﯾﺎ ﺿﻌﯿﻔﯽ ﮐﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﭘﻮﺷﯿﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﺳﮑﺘﺎ۔ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺗﻘﺎ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﺮ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮨﺎ ۔ﻭﻗﺖ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﮭﺎ ﺭ ﺁﺗﺎ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ۔ﺍﯾﺴﺎ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺗﺼﻨﯿﻒ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺍﭘﻨﺎ ﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﭘﺎﻣﺎﻝ ﺭﺍﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮐﻠﯿﺸﮯ ﮐﮯ ﺳﺨﺖ ﺧﻼﻑ ﺗﮭﺎ۔ﻧﻘﺎﻝ،ﭼﺮﺑﮧ ﺳﺎﺯ ،ﺳﺎﺭﻕ ﺍﻭﺭ ﮐﻔﻦ ﺩُﺯﺩ ﻟﻔﺎﻅ ﺣﺸﺮﺍﺕ ِ ﺳﺨﻦ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﺮ ﻗﻠﻢ ﺑﮧ ﮐﻒ ﻣﺠﺎﮨﺪ ﮐﺎ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ۔ﺧﻮﺏ ﺳﮯ ﺧﻮﺏ ﺗﺮ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺗﺨﻠﯿﻘﯽ ﺳﻔﺮ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮨﺎ ۔ﺟﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ ﮐﻮ ﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺎﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻓﯽ ﺍﻟﻀﻤﯿﺮ ﮐﮯ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ﺑﻞ ﮐﮧ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺎﺭ ﮐﯽ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮐﺎ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺩﺍﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ﯾﮧ ﮐﮩﻨﺎ ﻏﻠﻂ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﮐﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺍﯾﮏ ﭼﮭﻠﻨﯽ ﮐﯽ ﺳﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﺩﺑﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺎﺭ ﮐﯽ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﭼﮭﻦ ﮐﺮ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﺘﯽ ﮨﮯ ۔ﮔﯿﺒﺮﯾﻞ ﮔﺎﺭﺳﯿﺎ ﻣﺎﺭﮐﯿﺰﮐﮯ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﻣﯿﮞﺠﻠﻮﮦ ﮔﺮ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻣﺴﺘﺤﮑﻢ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮐﺎ ﮐﺮﺷﻤﮧ ﺩﺍﻣﻦِ ﺩِﻝ ﮐﮭﯿﻨﭽﺘﺎ ﮨﮯ ۔ﺍُﺱ ﮐﺎ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﻣﻮﺿﻮﻉ ،ﻣﻮﺍﺩ ،ﺫﮨﻨﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﺨﻠﯿﻘﯽ ﻭﺟﺪﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻈﮩﺮ ﻗﺮﺍﺭ ﺩﯾﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺣﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺟﺘﻨﮯ ﻣﻮﺳﻢ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻗﻠﺐ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺡ ﮐﻮ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﻨﮏ ﺭﻧﮓ ﻣﻨﻈﺮ ﻧﺎﻣﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻗﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﭺ ﺑﺲ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ﻃﻠﺴﻤﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻧﮕﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﻮﺗﮯ ﻓﮑﺮ ﭘﺮﻭﺭ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﺍ ﻭﺭ ﺑﺼﯿﺮﺕ ﺍﻓﺮﻭﺯ ﺗﺠﺮﺑﺎﺕ ﻭ ﻣﺸﺎﮨﺪﺍﺕ ﺳﮯ ﭘُﮭﻮﭨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﻃﻠﺴﻤﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻧﮕﺎﺭﯼ ﻗﻠﺒﯽ ،ﺭﻭﺣﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﻭﺟﺪﺍﻧﯽ ﮐﯿﻔﯿﺎﺕ ﭘﺮ ﺑﺮﺍﮦِ ﺭﺍﺳﺖ ﺍﺛﺮ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ۔ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺗﺤﺮﯾﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺮﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺩُﮬﻮﻝ ،ﻓﻀﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻮِ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﻣﺮﺣﻮﻣﮧ ﺩﺍﺩﯼ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯﯾﮟ، ﺟﻨﻮﮞ ،ﭼﮍﯾﻠﻮﮞ ،ﺑُﮭﻮﺗﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻮ ﺯﺍﺩﻭﮞ ﮐﺎ ﻋﻤﻞ ﺍﻭﺭ ﺳﺤﺮ ﮐﮯ ﺍ ﺛﺮﺍﺕ ﮔﺮﭼﮧ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞِ ﯾﻘﯿﻦ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺩُﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﮐﯽ ﺑﺎﺯ ﮔﺸﺖ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺳﻨﺎﺋﯽ ﺩﮮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ﻃﻠﺴﻤﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻧﮕﺎﺭﯼ ﮐﻮﻓﻨﻮﻥ ﻟﻄﯿﻔﮧ ﺑﺎﻟﺨﺼﻮﺹ ﺍﺩﺏ ،ﻓﻠﻢ ﺍﻭﺭﮈﺭﺍﻣﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﭘﺬﯾﺮﺍﺋﯽ ﻣﻠﯽ۔ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺎﺭ ﯾﮧ ﺗﺎﺛﺮ ﺩﯾﻨﮯ ﻣﯿﮞﮑﺎﻡ ﯾﺎﺏ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻃﺒﻌﯽ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﺑﻌﺾ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮔﺮﺩ ﻭ ﻧﻮﺍﺡ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﺴﻞ ﺩﺭ ﻧﺴﻞ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻣﻌﻤﻮﻻﺕ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞِ ﯾﻘﯿﮟ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺩﺧﯿﻞ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻣﺮﻭﺯ ﮐﯽ ﺷﻮﺭﺵ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺪﯾﺸﮧﺀﻓﺮﺩﺍ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺍﺳﯽ ﮐﺎ ﺛﻤﺮ ﮨﮯ ۔ ﺍﺩﺑﯽ ﺗﺤﺮﯾﮑﯿﮟ ﻓﺮﻭﻍ ِ ﻋﻠﻢ ﻭ ﺍﺩﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﻠﯿﺪﯼ ﮐﺮﺩﺍ ﺭ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ﮔﯿﺒﺮﯾﻞ ﮔﺎﺭﺳﯿﺎ ﻣﺎﺭﮐﯿﺰ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﺩﺑﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺳﮯ ﺗﮭﺎ ۔ﯾﮧ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﻻﻃﯿﻨﯽ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﺑُﻮﻡ (Latin America Boom) ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺭﻓﻘﺎﺋﮯ ﮐﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﺑﻌﺪ ﺟﺪﯾﺪﯾﺖ ﭘﺮ ﺩﺳﺘﺮﺱ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﻮﻟﯿﻮ ﮐﺎﺭﭨﺰﺍﺭ (Julio Cartazar) ﺍﻭﺭﻧﻮﺑﻞ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﯾﺎﻓﺘﮧ ﺍﺩﯾﺐ ﻣﺎﺭﯾﻮ ﻭﺭﮔﺎﺱ ﻟﻠﻮﺳﺎ (Mario Vargas Llosa) ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﻗﺎﺑﻞِ ﺫﮐﺮ ﮨﯿﮟ۔ﺑﯿﺴﻮﯾﮟ ﺻﺪﯼ ﮐﮯ ﻭﺳﻂ ﻣﯿﮞﻌﺎﻟﻤﯽ ﺍﺩﺑﯿﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻓﮑﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﺭﺟﺤﺎﻥ ﮐﻮ ﭘﺬﯾﺮﺍﺋﯽ ﻣﻠﯽ ﺍُﺳﮯ ﻃﻠﺴﻤﺎﺗﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻧﮕﺎﺭﯼ ﺳﮯ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ﮔﺒﺮﯾﻞ ﮔﺎﺭﺳﯿﺎ ﻣﺎﺭﮐﯿﺰ ﮐﮯ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﻣﯿﮞﻄﻠﺴﻤﺎﺗﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻧﮕﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﭘﺘﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺎﺛﯿﺮ ﮐﺎ ﻟﻮﮨﺎﻣﻨﻮ ﺍﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ ۔ﻃﻠﺴﻤﺎﺗﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻧﮕﺎﺭﯼ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﮐﯽ ﺍﺳﺎﺱ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺟﺐ ﺍﯾﮏ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺎﺭ ﻣﺎﺋﻞ ﺑﮧ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﻨﻄﻖ ﻭ ﺗﻮﺟﯿﮩﮧ ﺳﮯ ﻗﻄﻊ ﻧﻈﺮ ﻓﮑﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﻧﮕﺎﺭﯼ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﯽ ﻣﻨﻔﺮﺩ ﺑﯿﺎﻧﯿﮧ ﺟﮩﺖ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻗﺎﺭﯼ ﮐﻮ ﻣﺴﺤﻮﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ۔ﺍﺳﻠﻮﺏ ﮐﯽ ﻏﯿﺮ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺩﻝ ﮐﺸﯽ،ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺗﻨﺎﻇﺮ، ﻣﻮﮨﻮﻡ ﺗﺼﻮﺭﺍﺕ،ﻣﺎﻓﻮﻕ ﺍﻟﻔﻄﺮﺕ ﻋﻨﺎﺻﺮ ﮐﯽ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐُﻦ ﮐﺮﺷﻤﮧ ﺳﺎﺯﯾﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﮐﯽ ﺑﮯ ﺳﺎﺧﺘﮕﯽ ﻗﺎﺭﯼ ﮐﻮ ﻭﺭﻃﮧﺀﺣﯿﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﺎﺕ ﺟﺐ ﺳﯿﺪﮬﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻗﺎﺭﯼ ﺍﺵ ﺍﺵ ﮐﺮ ﺍُﭨﮭﺘﺎ ﮨﮯ ۔ﮔﯿﺒﺮﯾﻞ ﮔﺎﺭﺳﯿﺎ ﻣﺎﺭﮐﯿﺰﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺘﻨﻮﻉ ﺗﺨﻠﯿﻘﯽ ﺗﺠﺮﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺍﻋﺠﺎﺯ ﺳﮯ ﻋﺎﻟﻤﯽ ﺍﺩﺑﯿﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﺗﺨﻠﯿﻖِ ﺍﺩﺏ ﮐﻮ ﻣﺘﻌﺪﺩ ﻧﺌﯽ ﺟﮩﺎﺕ ﺳﮯ ﺁﺷﻨﺎ ﮐﯿﺎ۔ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻧﺌﮯ ،ﻣﻨﻔﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﻓﮑﺮﭘﺮﻭﺭ ﺗﺠﺮﺑﺎﺕ ﮔﻠﺸﻦِ ﺍﺩﺏ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺯﮦ ﮨﻮﺍ ﮐﮯ ﺟﮭﻮﻧﮑﮯ ﮐﮯ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺗﮭﮯ۔ﺍﻥ ﺗﺠﺮﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﻣﻌﺠﺰ ﻧﻤﺎ ﺍﺛﺮ ﺳﮯ ﺟﻤﻮﺩ ﮐﺎ ﺧﺎﺗﻤﮧ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺗﺨﻠﯿﻘﯽ ﻓﻌﺎﻟﯿﺖ ﮐﻮ ﺑﮯ ﮐﺮﺍﮞ ﻭﺳﻌﺖ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﮧ ﮔﯿﺮﯼ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮﺋﯽ۔ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻧﮕﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﻣﺮﻭﺟﮧ ﺭﻭﺍﯾﺘﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯِ ﻓﮑﺮ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﻃﻠﺴﻤﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻧﮕﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﻣﻈﮩﺮ ﺍﯾﮏ ﻧﺌﮯ ﺟﮩﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﭘﺮﺗﻮﺟﮧ ﻣﺮﮐﻮﺯ ﺭﮐﮭﯽ۔ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﻣﯿﮟ ﺣﯿﺮﺕ ﮐﺎ ﻋﻨﺼﺮ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﮨﮯ ۔ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻧﺎﻭﻝ ﺍﻭﺭ ﺍﻓﺴﺎﻧﮯ ﺩِﻝ ﺩﮨﻼ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﻨﺎﻇﺮ ،ﻟﺮﺯﮦ ﺧﯿﺰ ﺍﻋﺼﺎﺏ ﺷﮑﻦ ﺳﺎﻧﺤﺎﺕ ﮐﯽ ﻟﻔﻈﯽ ﻣﺮﻗﻊ ﻧﮕﺎﺭﯼ ،ﺧﻮﻑ ﻧﺎﮎ ﮐﺮﺩﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻣﮩﻢ ﺟﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﮩﺪ ﻟﻠﺒﻘﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﻮﺿﻮﻋﺎﺕ ﺳﮯ ﻟﺒﺮﯾﺰ ﮨﯿﮟ۔ﺍُﺱ ﻧﮯ ﻏﯿﺮ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﮐﻮ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﺮ ﮐﮯ ﭘﺘﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﮐﯽ ﺍ ﺛﺮ ﺁﻓﺮﯾﻨﯽ ﮐﺎ ﻟﻮﮨﺎ ﻣﻨﻮﺍﯾﺎ ﮨﮯ ۔ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﻣﻮ ﺿﻮﻋﺎﺕ ﮨﯽ ﮐﻮ ﻟﮯ ﻟﯿﮟ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﮔﯿﺒﺮﯾﻞ ﮔﺎﺭﺳﯿﺎ ﻣﺎﺭﮐﯿﺰ ﻧﮯ ﺟﺲ ﺩﻝ ﮐﺶ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺐِ ﻗﺮﻃﺎﺱ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺍﻧﻔﺮﺍﺩﯾﺖ ﮐﯽ ﺩﻟﯿﻞ ﮨﮯ ۔ﻣﻮﺕ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻭﻗﻔﮧ ﮨﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺗﮭﻮﮌﺍ ﺳﺎ ﺩﻡ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﯽ ﺭﻭﺩﺍﺩ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮩﯿﮟ۔ﮔﯿﺒﺮﯾﻞ ﮔﺎﺭﺳﯿﺎ ﻣﺎﺭﮐﯿﺰ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﻮﺿﻮﻉ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﺨﯿﻞ ﮐﯽ ﺟﻮ ﻻﻧﯿﺎﮞ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﮨﯿﮟ۔ﺍﭘﻨﮯ ﻻ ﺯﻭﺍﻝ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﺳﮯ ﮔﯿﺒﺮﯾﻞ ﮔﺎﺭﺳﯿﺎ ﻣﺎﺭﮐﯿﺰ ﻧﮯ ﮔﻠﺸﻦِ ﺍﺩﺏ ﮐﻮ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﻧﮑﮭﺎﺭﺍ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺜﺎﻝ ﺁﭖ ﮨﮯ ۔ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮯ ﻣﺜﺎﻝ ﺍﺩﺑﯽ ﮐﺎ ﻣﺮﺍﻧﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﻻﻃﯿﻨﯽ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﮐﮯ ﺍﺩﺏ ﮐﻮ ﺛﺮﻭﺕ ﻣﻨﺪ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﮨﻢ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﺍﺩﺍ ﮐﯿﺎ ۔ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﺍﺩﺏ ،ﺗﻨﻘﯿﺪ ﻭ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﺍﻭﺭ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﻭ ﺍﺑﻼﻍ ﮐﮯ ﻣﺮﻭﺟﮧ ﻣﻌﺎﺋﺮ ﮐﻮ ﯾﮑﺴﺮ ﺑﺪ ﻝ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﺿﺢ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻗﻠﺐ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺡ ﮐﯽ ﺍﺗﮭﺎﮦ ﮔﮩﺮﺍﺋﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍُﺗﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﺛﺮ ﺁﻓﺮﯾﻨﯽ ﺳﮯ ﻣﺘﻤﺘﻊ ﺗﺨﻠﯿﻘﯽ ﻓﻌﺎﻟﯿﺖ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﻣﻌﯿﺎﺭ ﯾﺎ ﻃﺮﯾﻖِ ﮐﺎﺭ ﮐﯽ ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮐﯽ ﺍﺣﺘﯿﺎﺝ ﻧﮩﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍُﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺗﺼﺪﯾﻖ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺋﯿﺪ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ ۔ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﻻﺋﺤﮧﺀﻋﻤﻞ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮯ ﻭﻻ ﻭﻗﺖ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻣﻌﯿﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﻣﻘﺎﻡ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺻﺎﺩﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﺏ ﮨﻮﺍﺋﯿﮟ ﮨﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺟﺲ ﺩﺋﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻥ ﮨﻮﮔﯽ ﻭﮦ ﺩﯾﺎ ﺭﮦ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺍُﺭﺩﻭ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮯ ﺟﻦ ﻣﻤﺘﺎﺯ ﺍﺩﯾﺒﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﯿﺒﺮﯾﻞ ﮔﺎﺭﺳﯿﺎ ﻣﺎﺭﮐﯿﺰ ﮐﮯ ﺗﺨﻠﯿﻘﯽ ﺷﮧ ﭘﺎﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺗﺮﺟﻤﮯ ﭘﺮ ﺗﻮﺟﮧ ﺩﯼ ﺍُﻥ ﻣﯿﮞﮉﺍﮐﭩﺮ ﻧﺜﺎﺭ ﺍﺣﻤﺪ ﻗﺮﯾﺸﯽ ،ﻏﻔﺎﺭ ﺑﺎﺑﺮ ،ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮔﺮﺍﻣﯽ ، ﺁﻓﺘﺎﺏ ﻧﻘﻮﯼ ،ﻣﺤﻤﺪ ﻓﯿﺮﻭﺯ ﺷﺎﮦ ،ﻣﺤﻤﺪ ﻃﺤﮧٰ ﺧﺎﻥ،ﺁﻓﺎﻕ ﺻﺪﯾﻘﯽ ،ﺑﺸﯿﺮ ﺳﯿﻔﯽ ،ﺫﮐﯿﮧ ﺑﺪﺭ ،ﺷﺒﯿﺮ ﺍﺣﻤﺪ ﺍﺧﺘﺮ ،ﺻﺎﺑﺮ ﺁﻓﺎﻗﯽ ، ﺍﺳﺤﺎﻕ ﺳﺎﻗﯽ،ﺭﺍﻧﺎ ﻋﺰﯾﺰ ﺍﺣﻤﺪ ،ﺻﺎﺑﺮ ﮐﻠﻮﺭﻭﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺴﻦ ﺑﮭﻮﭘﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﻗﺎﺑﻞِ ﺫﮐﺮ ﮨﯿﮟ ۔ﺍﻥ ﺩﺍﻧﺶ ﻭﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺗﺮﺍﺟﻢ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﻣﺮﺍﺣﻞ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻓﺮﺷﺘﮧﺀﺍﺟﻞ ﻧﮯ ﺍِﻥ ﺳﮯ ﻗﻠﻢ ﭼﮭﯿﻦ ﻟﯿﺎ ۔ﮔﯿﺒﺮﯾﻞ ﮔﺎﺭﺳﯿﺎ ﻣﺎﺭﮐﯿﺰ ﮐﯽ ﺍﮨﻢ ﺗﺼﺎﻧﯿﻒ ﮐﮯ ﺍُﺭﺩﻭ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺗﺮﺍﺟﻢ ﺷﺎﺋﻊ ﮨﻮ ﭼُﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﺍُﻧﮭﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﭘﺬﯾﺮﺍﺋﯽ ﻣﻠﯽ۔ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻧﺎﻭﻝ ” ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ “ ﮐﺎ ﺍُﺭﺩﻭ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﻌﯿﻢ ﺍﺣﻤﺪ ﮐﻼﺳﺮﺍ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ۔ﯾﮧ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﯽ ﭼﺎﺷﻨﯽ ﻟﯿﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺭﯼ ﮐﻮ ﻣﺼﻨﻒ ﮐﮯ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺷﻌﻮﺭ ﺳﮯ ﻣﺘﻤﺘﻊ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺎﻭﻥ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺗﺎﮨﮯ۔ﺍﺱ ﺗﺮﺟﻤﮯ ﮐﮯ ﺩﯾﺒﺎﭼﮯ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺁﺷﻮ ﻻﻝ ﻧﮯ ﻣﺼﻨﻒ ﮐﮯ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﺍﻭﺭ ﺗﺨﻠﯿﻘﯽ ﻋﻤﻞ ﮐﮯ ﻻ ﺷﻌﻮﺭﯼ ﻣﺤﺮﮐﺎﺕ ﭘﺮ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮈﺍﻟﯽ ﮨﮯ ۔ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻧﺎﻭﻝ ”Chronicle of a Death Foretold“ ﮐﺎ ﺍُﺭﺩﻭ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﺍﺩﯾﺐ ﻓﻀﺎﻝ ﺍﺣﻤﺪ ﺳﯿﺪ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ۔ﯾﮧ ﺗﺮﺟﻤﮧ ” ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺶ ﮔُﻔﺘﮧ ﻣﻮﺕ ﮐﯽ ﺭﻭﺩﺍﺩ “ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺷﺎﺋﻊ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻗﺎﺭﺋﯿﻦ ِ ﺍﺩﺏ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮔﮩﺮﯼ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﻟﯽ ۔ﭘﻨﺠﺎﺑﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮯ ﻧﺎﻣﻮﺭ ﺍﺩﯾﺐ ﺍﻓﻀﻞ ﺍﺣﺴﻦ ﺭﻧﺪﮬﺎﻭﺍ ﻧﮯ ﺍِﺳﯽ ﻋﻈﯿﻢ ﻧﺎﻭﻝ ﮐﻮ ﭘﻨﺠﺎﺑﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﮯ ﻗﺎﻟﺐ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﺎﻻ ﺟﻮ ” ﭘﮩﻠﻮﮞ ﺗﻮﮞ ﺩﺳﯽ ﮔﺌﯽ ﻣﻮﺕ ﺩﺍ ﺭﻭﺯﻧﺎﻣﭽﮧ “ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺷﺎﺋﻊ ﮨﻮ ﭼُﮑﺎ ﮨﮯ ۔ﭘﻨﺠﺎﺑﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﺍﺟﻢ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﺑﮩﺖ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﮐﺎ ﺣﺎﻣﻞ ﮨﮯ ۔ﺍﺱ ﺗﺮﺟﻤﮯ ﮐﯽ ﺍﺷﺎﻋﺖ ﺳﮯ ﭘﻨﺠﺎﺑﯽ ﺍﺩﺏ ﮐﯽ ﺛﺮﻭﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ۔ ﭘﻨﺠﺎﺑﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﻟﻤﯽ ﺍﺩﺑﯿﺎﺕ ﮐﮯ ﺗﺮﺍﺟﻢ ﮐﮯ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﻻﺋﻖ ﺻﺪ ﺭﺷﮏ ﻭ ﺗﺤﺴﯿﻦ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﮧ ﮨﮯ ۔ﮔﯿﺒﺮﯾﻞ ﮔﺎﺭﺳﯿﺎ ﻣﺎﺭﮐﯿﺰ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺗﺼﻨﯿﻒ ”No One Writes to the Colonel“ ﮐﺎ ﺍُﺭﺩﻭ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﺋﻊ ﮨﻮ ﭼُﮑﺎ ﮨﮯ ۔ﯾﮧ ﺗﺮﺟﮧ ﺟﻮ ” ﮐﺮﻧﻞ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻂ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮑﮭﺘﺎ “ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺷﺎﺋﻊ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ،ﻣﻤﺘﺎﺯ ﺍﺩﯾﺐ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺣﺴﻦ ﮐﯽ ﺑﺼﯿﺮﺕ ﺍﻓﺮﻭﺯ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﻧﮕﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﺛﻤﺮ ﮨﮯ ۔ﺍُﺭﺩﻭ ﮐﮯ ﺟﻦ ﺍﺩﯾﺒﻮﮞ ﻧﮯ ﮔﯿﺒﺮﯾﻞ ﮔﺎﺭﺳﯿﺎ ﻣﺎﺭﮐﯿﺰ ﮐﯽ ﺗﺼﺎﻧﯿﻒ ﮐﮯ ﻧﺎ ﻣﮑﻤﻞ ﺗﺮﺍﺟﻢ ﮐﯿﮯ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﻨﺖ ﺣﺴﺎﻡ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻗﺎﺑﻞِ ﺫﮐﺮ ﮨﮯ ﺟﻨﮭﻮﮞﻨﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ” ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ “ ﮐﮯ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﭼﻨﺪ ﺍﺑﻮﺍﺏ ﺍُﺭﺩﻭ ﮐﮯ ﻗﺎﻟﺐ ﻣﯿﮟ ﮈﮬﺎﻟﮯ ﺟﻮ ﮐﺮﺍﭼﯽ ﺳﮯ ﺷﺎﺋﻊ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺘﺎﺑﯽ ﺳﻠﺴﻠﮯ ” ﺁﺝ “ ﮐﯽ ﺯﯾﻨﺖ ﺑﻨﮯ۔ﺍُﺭﺩ ﻭﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﺮﺍﺟﻢ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺩﻭ ﺗﮩﺬﯾﺒﻮﮞ ﮐﻮ ﻗﺮﯾﺐ ﺗﺮ ﻻﻧﮯ ﮐﯽ ﻣﺴﺎﻋﯽ ﺟﺎﺭﯼ ﮨﯿﮟ ۔ﺍﺱ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺒﺮﯾﻞ ﮔﺎﺭﺳﯿﺎ ﻣﺎﺭﮐﯿﺰ ﮐﯽ ﺗﺼﺎﻧﯿﻒ ”Autumn of the Patriarch“ ﺍﻭﺭ ”Love in the Time of Cholera“ ﮐﺎ ﺍُﺭﺩﻭ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﭼُﮑﺎ ﮨﮯ ۔ ﺍﮔﺮﭼﮧ ﮔﯿﺒﺮﯾﻞ ﮔﺎﺭﺳﯿﺎ ﻣﺎﺭﮐﯿﺰ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻋﺎﻟﻢِ ﺁﺏ ﻭ ﮔِﻞ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﺎﺗﺎ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﻋﺪﻡ ﮐﮯ ﮐﻮﭺ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﺧﺖِ ﺳﻔﺮ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺣﺴﯿﻦ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﺳﮯ ﺩﺍﻣﻦِ ﺩﻝ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻣﻌﻄﺮ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ۔ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺩﺍﺋﻤﯽ ﻣﻔﺎﺭﻗﺖ ﮐﮯ ﺻﺪﻣﮯ ﺳﮯ ﻧﮉﮬﺎﻝ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ ﻣﺪﺍﺡ ﺳﮑﺘﮯ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ ۔ﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺭﺳﺘﮕﺎﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺝ ﻭﮦ ﺗﻮ ﮐﻞ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﺎﺭﯼ ﮨﮯ ۔ﺭﺧﺶ ِﺣﯿﺎﺕ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺭ ﻭﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﮨﺎﺗﮫ ﻧﮧ ﺗﻮ ﺑﺎﮒ ﭘﺮ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﻧﮧ ﮨﯽ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﭘﺎﺅﮞ ﺭﮐﺎﺏ ﻣﯿﮟ ۔ﻧﺎﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺲ ﻣﺮﺣﻠﮯ ﭘﺮ ﮐُﻮﭺ ﮐﺎ ﻧﻘﺎﺭﮦ ﺑﺞ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﻮ ﺑﺮﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﮨﻢ ﺍﯾﮏ ﭘﻞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﺟﺎﻥ ﺳﮑﯿﮟ ۔ ﺩﻧﯿﺎﺋﮯ ﺩﻧﯽ ﮐﻮ ﻧﻘﺶِ ﻓﺎﻧﯽ ﺳﻤﺠﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﮔﯿﺒﺮﯾﻞ ﮔﺎﺭﺳﯿﺎ ﻣﺎﺭﮐﯿﺰ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﻗﺪﺭﮮ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮨﮯ ۔ ﺣﯿﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﻮ ﺗﺨﯿﻞ ﮐﯽ ﺁﻣﯿﺰﺵ ﺳﮯ ﺍﺑﺪ ﺁﺷﻨﺎ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﺱ ﻻﻓﺎﻧﯽ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺎﺭ ﮐﮯ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﭘﺮ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﻣﻀﺎﻣﯿﻦ ﻟﮑﮭﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﻏﯿﺮ ﻣﺨﺘﺘﻢ ﮨﮯ ۔ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺍُﻓﻖِ ﺍﺩﺏ ﭘﺮ ﻣِﺜﻞِ ﺁﻓﺘﺎﺏ ﺿﻮ ﻓﺸﺎﮞ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ۔ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺩُﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﻣﮑﯿﻦ ﮨﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﻓﮑﺮ ﻭ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﮯ ﮔُﻞ ﮨﺎﺋﮯ ﺭﻧﮓ ﺭﻧﮓ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺪﺍ ﺑﮩﺎﺭﻋﻄﺮ ﺑﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﻗﺮﯾﮧﺀﺟﺎﮞ ﮐﻮ ﻣﻌﻄﺮ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻓﺼﻞِ ﮔُﻞ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﯾﺸﮧﺀﺯﻭﺍﻝ ﻧﮩﯿﮟ ۔ﺍُﺱ ﻧﮯ ﻓﮑﺮ ﻭ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﯽ ﺍﻧﺠﻤﻦ ﺁﺭﺍﺋﯽ ﺍ ﻭﺭ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﮐﯽ ﺧﯿﺎﺑﺎﮞ ﺳﺎﺯﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺳﻤﺎﮞ ﺑﺎﻧﺪﮬﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺭﮨﺘﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﺗﮏ ﻗﺎﺭﺋﯿﻦِ ﺍﺩﺏ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻭﻟﻮﻟﮧﺀﺗﺎﺯﮦ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ۔ﺍﺱ ﻧﮯ ﻃﻠﺴﻤﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻧﮕﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺟﺲ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺴﮑﻦ ﺑﻨﺎﯾﺎﮨﮯ ﻭﮦ ﺳﯿﻞ ِ ﺯﻣﺎﮞ ﮐﮯ ﺗﮭﭙﯿﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ۔ﺍﯾﮏ ﺯﯾﺮﮎ ﺗﺨﻠﯿﻖ ﮐﺎﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺫﮨﻦ ﻭ ﺫﮐﺎﻭﺕ ﮐﮯ ﺍﻋﺠﺎﺯ ﺳﮯ ﻃﻠﺴﻤﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻧﮕﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺟﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﺁﺑﺎﺩ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻗﺎﺭﺋﯿﻦِ ﺍﺩﺏ ﮐﮯ ﻓﮑﺮ ﻭ ﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺭﭺ ﺑﺲ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔ﻃﻠﺴﻤﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻧﮕﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺍﻗﺪﺍﺭ ﻭ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﺗﮩﺬﯾﺒﯽ ﺍﺭﺗﻘﺎ ﮐﮯ ﻣﺎﻧﻨﺪﻧﺴﻞ ﺩﺭ ﻧﺴﻞ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﺳﻤﮯ ﮐﮯ ﺳﻢ ﮐﮯ ﺛﻤﺮ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﻋﻨﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻄﺮﮦ ﻻﺣﻖ ﻧﮩﯿﮟ ۔ﮔﯿﺒﺮﯾﻞ ﮔﺎﺭﺳﯿﺎ ﻣﺎﺭﮐﯿﺰ ﻧﺎﻭﻝ ﺍﻭﺭ ﺍﻓﺴﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻃﻠﺴﻤﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻧﮕﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺍﻗﻠﯿﻢ ﮐﺎ ﺑﮯ ﺗﺎﺝ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﮭﺎ۔ﺍﺱ ﺍﻗﻠﯿﻢ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻋﻈﻤﺖ ﻓﮑﺮ ﮐﺎ ﮈﻧﮑﺎ ﺑﺠﺘﺎ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺳﻠﻮﺏ ﮐﺎ ﺳﮑﮧ ﭼﻠﺘﺎ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ۔ﻗﺎﺭﺋﯿﻦِ ﺍﺩﺏ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍُﺱ ﻓﮑﺮ ﻭ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﯽ ﺟﻮﻻﻧﯿﻮﮞ ،ﺍﺷﮩﺐ ِ ﻗﻠﻢ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﻧﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﺼﯿﺮﺕ ﻭ ﻭﺟﺪﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﮯ ﮐﺮﺍﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻣﺪﺍﺡ ﺧﻮﺍﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺍﺑﺪ ﺁﺷﻨﺎ ﺗﺼﻮﺭﺍﺕ ، ﺭﻭﺡ ﭘﺮﻭﺭ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﺍﻭﺭ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﻃﻠﺴﻤﺎﺕ ﺳﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﺑﺎﺩ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮔﮯ۔ﻋﻘﯿﺪﺗﻮﮞ ،ﻣﺤﺒﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺧﻠﻮﺹ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻗﺎﺋﻢ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ۔ﻓﻀﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﺳُﻮ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﻋﻄﺮ ﺑﯿﺰ ﯾﺎﺩﯾﮟ ﭘﮭﯿﻠﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﺳﻤﺖ ﺑﮭﯽ ﻧﻈﺮ ﺍُﭨﮭﺘﯽ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﯾﮧ ﻣﺎﻧُﻮﺱ ﺁﻭﺍﺯ ﻧﮩﺎﮞ ﺧﺎﻧﮧﺀﺩِﻝ ﭘﺮ ﺩﺳﺘﮏ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﻟﻤﺤﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺻﺪﯾﺎﮞ ﺳُﻨﯿﮟ ﮔﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻭﺍﺯ ﮐﻮ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮐﮭﻨﺎ بشکریہ غلام شبیر جھنگ
10 days ago