علماءاحناف،دیوبند۔الہند

Book

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
اس پیج پرآپ کے آنے کیلئے اور اس کولائیک کرنےپر ہم آپکا شکریہ اداکرتے ہیں ...

4:25
روزہ کے مکروہات کا بیان حدیث ۱ و ۲: بخاری و ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو بُری بات کہنا اور اُس پر عمل کرنا نہ چھوڑے ،تو اﷲ تعالیٰ کو اس کی کچھ حاجت نہیں کہ اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے۔'' اور اسی کے مثل طبرانی نے انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی۔ حدیث ۳ و ۴: ابن ماجہ و نسائی و ابن خزیمہ و حاکم و بیہقی ودارمی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بہت سے روزہ دار ایسے ہیں کہ انھیں روزہ سے سوا پیاس کے کچھ نہیں اور بہت سے رات میں قیا م کرنے والے ایسے کہ انھیں جاگنے کے سوا کچھ حاصل نہیں۔'' اور اُسی کے مثل طبرانی نے ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے روایت کی۔ حدیث ۵ و ۶: بیہقی ابو عبیدہ اور طبرانی ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنھما سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''روزہ سپر ہے، جب تک اسے پھاڑا نہ ہو۔ عرض کی گئی، کس چیز سے پھاڑے گا؟ ارشاد فرمایا: جھوٹ یا غیبت سے۔'' حدیث ۷: ابن خزیمہ و ابن حبان و حاکم ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''روزہ اس کا نام نہیں کہ کھانے اور پینے سے باز رہنا ہو، روزہ تویہ ہے کہ لغو و بیہودہ باتوں سے بچا جائے۔'' حدیث ۸: ابو داود نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ ایک شخص نے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے روزہ دار کو مباشرت کرنے کے بارے میں سوال کیا، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے انھیں اجازت دی پھر ایک دوسرے صاحب نے حاضر ہوکر یہی سوال کیا تو انھیں منع فرمایا اور جن کو اجازت دی تھی، بوڑھے تھے اور جن کو منع فرمایا: جوان تھے۔'' حدیث ۹: ابو داود و ترمذی عامر بن ربیعہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہتے ہیں میں نے بے شمار بار نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو روزہ میں مسواک کرتے دیکھا۔ مسئلہ ۱: جھوٹ، چغلی، غیبت، گالی دینا، بیہودہ بات، کسی کو تکلیف دینا کہ یہ چیزیں ویسے بھی ناجائز و حرام ہیں روزہ میں اور زیادہ حرام اور ان کی وجہ سے روزہ میں کراہت آتی ہے۔ مسئلہ ۲: روزہ دار کو بلاعذر کسی چیز کا چکھنا یا چبانا مکروہ ہے۔ چکھنے کے لیے عذر یہ ہے کہ مثلاً عورت کا شوہر یا باندی غلام کا آقا بدمزاج ہے کہ نمک کم و بیش ہوگا تو اس کی ناراضی کا باعث ہوگا اس وجہ سے چکھنے میں حرج نہیں، چبانے کے لیے یہ عذر ہے کہ اتنا چھوٹا بچہ ہے کہ روٹی نہیں کھا سکتا اور کوئی نرم غذا نہیں جو اُسے کھلائی جائے، نہ حیض و نفاس والی یا کوئی اور بے روزہ ایسا ہے جو اُسے چبا کر دیدے، تو بچہ کے کھلانے کے لیے روٹی وغیرہ چبانا مکروہ نہیں۔ (درمختار وغیرہ) چکھنے کے وہ معنی نہیں جو آج کل عام محاورہ ہے یعنی کسی چیز کا مزہ دریافت کرنے کے لیے اُس میں سے تھوڑا کھا لینا کہ یوں ہو تو کراہت کیسی روزہ ہی جاتا رہے گا، بلکہ کفارہ کے شرائط پائے جائیں تو کفارہ بھی لازم ہوگا۔ بلکہ چکھنے سے مراد یہ ہے کہ زبان پررکھ کر مزہ دریافت کر لیں اور اُسے تھوک دیں اس میں سے حلق میں کچھ نہ جانے پائے۔ مسئلہ ۳: کوئی چیز خریدی اور اس کا چکھنا ضروری ہے کہ نہ چکھے گا تو نقصان ہوگا، تو چکھنے میں حرج نہیں ورنہ مکروہ ہے۔(درمختار) مسئلہ ۴: بلاعذر چکھنا جو مکروہ بتایا گیا یہ فرض روزہ کا حکم ہے نفل میں کراہت نہیں، جبکہ اس کی حاجت ہو۔ (ردالمحتار) مسئلہ ۵: عورت کا بوسہ لینا اور گلے لگانا اور بدن چھونا مکروہ ہے، جب کہ یہ اندیشہ ہو کہ انزال ہو جائے گا یا جماع میں مبتلا ہوگا اور ہونٹ اورزبان چوسنا روزہ میں مطلقاً مکروہ ہے۔ یوہیں مباشرت فاحشہ۔ (ردالمحتار) مسئلہ ۶: گلاب یا مشک وغیرہ سونگھنا داڑھی مونچھ میں تیل لگانا اور سُرمہ لگانامکروہ نہیں، مگر جبکہ زینت کے لیے سُرمہ لگایا یا اس لیے تیل لگایا کہ داڑھی بڑھ جائے، حالانکہ ایک مُشت داڑھی ہے تو یہ دونوں باتیں بغیر روزہ کے بھی مکروہ ہیں اور روزہ میں بدرجہ اَولیٰ۔ (درمختار) مسئلہ ۷: روزہ میں مسواک کرنا مکروہ نہیں، بلکہ جیسے اور دنوں میں سنّت ہے روزہ میں بھی مسنون ہے۔ مسواک خشک ہو یا تر اگرچہ پانی سے تَر کی ہو، زوال سے پہلے کرے یا بعد کسی وقت مکروہ نہیں (عامہ کتب) اکثر لوگوں میں مشہور ہے کہ دوپہر بعد روزہ دار کے لیے مسواک کرنا مکروہ ہے، یہ ہمارے مذہب کے خلاف ہے۔ مسئلہ ۸: فصد کھلوانا، پچھنے لگوانا مکروہ نہیں جب کہ ضعف کا اندیشہ نہ ہو اور اندیشہ ہو تو مکروہ ہے، اُسے چاہیے کہ غروب تک مؤخر کرے۔ (عالمگیری) مسئلہ ۹: روزہ دار کے لیے کلی کرنے اور ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کرنا مکروہ ہے۔ کلی میں مبالغہ کرنے کے یہ معنی ہیں کہ بھر مونھ پانی لے اور وضو و غسل کے علاوہ ٹھنڈ پہنچانے کی غرض سے کلی کرنا یا ناک میں پانی چڑھانا یا ٹھنڈ کے لیے نہانا بلکہ بدن پر بھیگا کپڑا لپیٹنا مکروہ نہیں۔ ہاں اگر پریشانی ظاہر کرنے کے لیے بھیگا کپڑا لپیٹا تو مکروہ ہے کہ عبادت میں دل تنگ ہونا اچھی بات نہیں۔(عالمگیری، ردالمحتار وغیرہما) مسئلہ ۱۰: پانی کے اندر ریاح خارج کرنے سے روزہ نہیں جاتا، مگر مکروہ ہے اور روزہ دار کو استنجے میں مبالغہ کرنا بھی مکروہ ہے۔ (عالمگیری) یعنی اور دِنوں میں حکم یہ ہے کہ استنجا کرنے میں نیچے کو زور دیا جائے اور روزہ میں یہ مکروہ ہے۔ مسئلہ ۱۱: مونھ میں تھوک اکٹھا کر کے نگل جانا بغیر روزہ کے بھی ناپسند ہے اور روزہ میں مکروہ۔ (عالمگیری) مسئلہ ۱۲: رمضان کے دنوں میں ایسا کام کرنا جائز نہیں، جس سے ایسا ضعف آجائے کہ روزہ توڑنے کا ظن غالب ہو۔ لہٰذا نانبائی کو چاہیے کہ دوپہر تک روٹی پکائے پھر باقی دن میں آرام کرے۔ (درمختار) یہی حکم معمار و مزدور اورمشقت کے کام کرنے والوں کا ہے کہ زیادہ ضعف کا اندیشہ ہو تو کام میں کمی کر دیں کہ روزے ادا کرسکیں۔ مسئلہ ۱۳: اگر روزہ رکھے گا تو کمزور ہو جائے گا، کھڑے ہو کر نما ز نہ پڑھ سکے گا تو حکم ہے کہ روزہ رکھے اور بیٹھ کر نماز پڑھے۔ (درمختار) جب کہ کھڑا ہونے سے اتنا ہی عاجز ہو جو باب صلاۃالمریض میں گزرا۔ مسئلہ ۱۴: سحری کھانا اور اس میں تاخیر کرنا مستحب ہے، مگر اتنی تاخیر مکروہ ہے کہ صبح ہوجانے کا شک ہو جائے۔(عالمگیری) مسئلہ ۱۵: افطار میں جلدی کرنا مستحب ہے، مگر افطار اس وقت کرے کہ غروب کا غالب گمان ہو، جب تک گمان غالب نہ ہو افطار نہ کرے، اگرچہ مؤذن نے اذان کہہ دی ہے اور اَبر کے دنوں میں افطار میں جلدی نہ چاہیے (ردالمحتار) مسئلہ ۱۶: ایک عادل کے قول پر افطار کرسکتا ہے، جب کہ اس کی بات سچی مانتا ہو اور اگر اس کی تصدیق نہ کرے تو اس کے قول کی بنا پر افطار نہ کرے۔ یوہیں مستور کے کہنے پر بھی افطار نہ کرے اور آج کل اکثر اسلامی مقامات میں افطار کے وقت توپ چلنے کا رواج ہے، اس پر افطار کر سکتا ہے، اگرچہ توپ چلانے والے فاسق ہوں جب کہ کسی عالم محقق توقیت دان محتاط فی الدین کے حکم پر چلتی ہو۔ آج کل کے عام علما بھی اس فن سے ناواقف محض ہیں اور جنتریاں کہ شائع ہوتی ہیں اکثر غلط ہوتی ہیں ان پر عمل جائز نہیں۔ یوہیں سحری کے وقت اکثر جگہ نقارہ بجتا ہے، انھیں شرائط کیساتھ اس کا بھی اعتبار ہے اگرچہ بجانے والے کیسے ہی ہوں۔ مسئلہ ۱۷: سحری کے وقت مرغ کی اذان کا اعتبار نہیں کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ صبح سے بہت پہلے اذان شروع کر دیتے ہیں، بلکہ جاڑے کے دنوں میں تو بعض مرغ دو بجے سے اذان کہنا شروع کر دیتے ہیں، حالانکہ اس وقت صبح ہونے میں بہت وقت باقی رہتا ہے۔ یوہیں بول چال سُن کر اورروشنی دیکھ کر بولنے لگتے ہیں۔ (ردالمحتار مع زیادۃ) مسئلہ ۱۸: صبح صادق کو رات کامطلقاً چھٹا یا ساتواں حصہ سمجھنا غلط ہے، رہا یہ کہ صبح کس وقت ہوتی ہے اُسے ہم حصہ سوم باب الاوقات میں بیان کر آئے وہاں سے معلوم کریں۔
1 day ago
0:15
خانہ کعبہ کا ایک ایک جزو مقدس اور بابرکت ہے مگر اس کے کچھ مقامات اپنی خاص پہچان رکھتے ہیں۔ ان میں کعبہ شریف کے داخلی اور خارجی دروازے، طوق حجر اسود، میزاب، غلاف کعبہ، شاذروان کعبہ اور اندرونی حصہ اپنی خاص پہچان رکھتے ہیں۔ مسجد حرمین شریفین کے امور کے محقق محی الدین الھاشمی لکھتے ہیں کہ ماضی میں مسلمان حکمرانوں کے ہاں خانہ کعبہ اوراس کے متعلق امور انتہائی اہمیت کے حامل رہے۔ مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ بہت کچھ بدلا مگر خانہ کعبہ کے بارے میں مسلمان خلفاء کی محبت میں کوئی کمی نہ آئی۔ خانہ کعبہ کہ اندورنی اور بیرونی دیواروں پر معلق ’چراغوں‘ سے مسلمان خلفاء کی اس مقدس مقام کے ساتھ محبت کا اندازہ با آسانی کیا جاسکتا ہے۔ اب بھی خانہ کعبہ کے ساتھ تانبے، لوہے، چاندی اور شیشے کی بنی 100 ایسی قندیلیں معلق ہیں۔ ان میں سے بعض پر عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور کا نام کندہ ہے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ یہ قندیلیں عباست دور خلافت کے اوئل میں متعلق کی گئی تھیں۔ باب کعبہ باب کعبہ ’بیت اللہ‘ کے اہم تاریخی رازوں میں سے ایک ہے۔ آج تک ان گنت بار باب کعبہ کو مختلف انداز میں ڈیزان کیا گیا۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے خانہ کعبہ بنایا اس وقت اس کا کوئی دروازہ نہیں تھا بلکہ خانہ کعبہ کی مشرقی اور مغربی سمت سے اندر داخل ہونے کے دو راستے رکھے تھے تھے جو کھلے رہتے تھے۔ کئی سال تک خانہ کعبہ ’دروازے‘ کے بغیر رہا۔ یہاں تک کہ بادشاہ تبع کے دور میں پہلی بار خانہ کعبہ کے دروازے بنائے،چابی اور غلاف بنائے گئے۔ قریش مکہ نے آتش زدگی اور سیلاب سے متاثر ہونے کےبعد خانہ کعبہ کو دوبارہ مرمت کیا اور کا مغربی دروازہ بند کردیا۔ صرف مشرقی دورازے کو کھلا رکھا۔ اس کےبعد آج تک دو پٹوں پرمشتمل 14 ہاتھ لمبا دروازہ خانہ کعبہ کی زینت ہے۔ سعودی محقق الھاشمی کا کہنا ہے کہ خانہ کعبہ کی دوسری بار تعمیر عبداللہ بن زبیر کے دور میں کی گئی۔ تاہم باب کعبہ کی شکلیں تبدیل ہوتی رہیں۔ عباسی خلیفہ المقتفی نے551ھ باب کعبہ بنایا گیا۔ اس کے بعد یمنی خلیفہ مظفر نے 659ھ میں خانہ کعبہ کے لیے چاندی سے تیار کردہ دروازہ عطیہ کیا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد شاہ ناصر حسن نے 761 ھ میں ساگوان کی لکڑی سے خانہ کعبہ کا دروازہ تیار کیا۔ ترک خلیفہ سلیمان القانونی نے لکڑی کا دروازہ تیار کرکے خانہ کعبہ میں لگوایا۔ اس پر سونے اور چاندی کی قلع کاری کی گئی اور آیت کریمہ "وقل رب أدخلني مدخل صدق واخرجني مخرج صدق واجعل من لدنك سلطانا نصيرا". تحریر کرائی۔ سنہ 1045ھ میں سلطان مراد کے دور میں خانہ کعبہ کی تعمیر نو کی گئی۔ اس دوران نیا باب کعبہ بھی نصب کیا گیا۔ یہ دروازہ بھی سونے اور چاندی سے تیار کیا گیا تھا۔ 1119ھ میں باب کعبہ کی دوبارہ تجدید کی گئی۔ موجودہ آل سعود دور حکومت میں باب کعبہ10 ذی الحج 1366ھ میں تبدیل کیا گیا۔ نئے باب کعبہ کی موٹائی 2.50 سینٹی میٹر ہے جب کہ لمبائی3.10 میٹر رکھی گئی ہے۔ المونیم سے تیار کیے گئے باب کعبہ پر سونے کا پانی چڑھایا گیا۔ آل سعود خاندان کے دور میں یہ پہلا باب کعبہ تھا جو آج بھی خادم الحرمین الشریفین میوزیم میں آج بھی موجود ہے۔ دوسرا باب کعبہ شاہ خالد رحمہ اللہ کے دور میں بنایا گیا۔ شاہ خالد کے دور میں ایک تبدیلی یہ آئی کہ خانہ کعبہ کے دو دروازے بنانے کا حکم دیا گیا۔ اب ’خارجی باب کعبہ‘ اور دوسرا باب کعبہ جسے باب التوبہ کا نام دیا گیا سے خانہ کعبہ کی چھت تک جانے کا راستہ بنایا گیا۔ دوسرا باب کعبہ تیار کرنے کا سہرا الشیخ الصاغہ احمد ابراہیم بدر کے سر جاتا ہے جنہوں نے 1397ھ میں باب کعبہ کا کام شروع کیا۔ اس باب میں لکڑی کی 10 سینٹی میٹر چوڑی تختیاں لگائی گئیں۔ تکمیل کے بعد اس پر سونے کا پانی چڑھایا گیا۔ باب کعبہ کی تیاری میں 13ملین ریال خرچ ہوئے۔ اسے 1399ھ میں نصب کیا گیا اور آج تک یہی باب کعبہ موجود ہے۔ ہالہ حجر اسود خانہ کعب میں نصب حجر اسود کے گرد نصب کردہ ہالہ کو صدیوں قبل خالص چاندی سے تیار کیا۔ سب سے پہلے حجر اسود کا ہالہ عبدللہ بن زبیر نے 64 ھ میں بنوایا۔ ہالہ اس لیے بنایا گیا تاکہ حجر اسود کو کسی قسم کی گزند پہنچنے سے بچایا جا سکے اور اس کی خوبصورت میں اضافہ کیا جائے۔ عباسی خلیفہ ہارون الرشید نے 189ھ میں سابق طوق حجر اسود میں خرابی کے بعد نیا ہالہ تیار کیا۔ قرامطہ کے دور میں حجر اسود کو بھی نقصان پہنچا۔ بنی شیبہ نے 339 میں نیا ہالہ حجر اسود تیار کیا۔ سدنہ خاندان کے تیار کردہ ہالہ کو 1079ھ میں تبدیل کیا گیا۔ عثمانی خلیفہ سلطان عبدالمجید خان نے 1268ھ میں نیا ہالہ حجر اسود بنوایا۔ یہ ہالہ خاصل سونے سے تیار کیا گیا اور اس پر آیت الکرسی نقش کی گئی۔ یہ ہالہ 13 سال تک رہا۔ اس کے بعد 1281ھ میں سلطان عبدالعزیز نےچاندی سے نیا ہالہ تیار کرایا۔ حجر اسود کا آخری ہالہ عثمانی خلیفہ سلطان محمد رشاد نے 1331ء میں بنوایا اور یہ ہالہ آل سعود کے دور تک قائم رہا۔ شاہ عبدالعزیز نے اپنے دور میں 1366ھ میں خانہ کعبہ میں کئی ترامیم کیں جن میں ہالہ حجر اسود کی تبدیلی بھی شامل ہے۔ شاہ عبدالعزیز کے دور میں تیار کردہ ہالہ حجر اسود 22 شعبان 1375ھ کو بعد از نماز مغرب نصب کیا گیا۔ البتہ شاہ فہد نے 1422ھ میں اس میں معمولی ترامیم کرائی تھیں۔ مگر ہالہ کو تبدیل نہیں کیا گیا۔ میزاب کعبہ میزاب کعبہ وہ خوبصورت پرنالہ ہے جو خانہ کعبہ کی چھت پر جمع ہونے والے پانی کو زمین تک پہنچانے کے لیے بنایا گیا۔ سب سے پہلے میزاب کعبہ قریش نے بنایا جب انہوں نے خانہ کعبہ کی از سر نو تعمیر کی تھی۔ میزاب کعبہ کی تیاری بعثت نبوی سے پانچ سال قبل ہوئی اور آپ صلی اللہ و علیہ وسلم نے بھی اس کی تیاری میں حصہ لیا تھا۔ قریش کے دور کے بعد اب تک میزاب کعبہ 12 مرتبہ نئے سرے سے بنایا گیا۔ عبداللہ بن زبیر، حجاج بن یوسف، ولید بن عبدالملک نے میزاب کعبہ سونے سے بنوایا۔ عثمانی خلیفہ سلطان عبدالمجید خان نے 1276ھ میں میزاب کعبہ تیار کرایا۔ یہ آج تک سعودی عرب میں سرکاری میوزیم میں موجود ہے۔ آل سعود کے دور میں شاہ فہد بن عبدالعزیز نے 24 سینٹی میٹر دھانے کا میزاب 1417ء میں تیار کراکے نصب کرایا اور یہ آج تک موجود ہے۔ الشاذوران خانہ کعبہ کے زیریں حصے میں زمین سے متصل سنگ مرمر کی اس پٹی کو’’شاذوران‘‘ کہا جاتا ہے جو کعبے کے حجر اسماعیل کے سوا باقی تین سمتوں میں ایک ہی انداز میں بنائی گئی ہے۔ سعودی محقق الھاشمی کا کہنا ہے کہ الشاذوران غیرعرب اصطلاح ہے۔ سب سے پہلے ’شاذوران‘ عبداللہ بن زبیر نے بنائی۔ اس کا مقصد کعبے کی دیواروں کو پانی لگنے سے کمزور ہونے سے بچانا اور غلاف کعبہ کو زائرئن سے تحفظ دلانا تھا۔ عبداللہ بن زبیر کے بعد 542ھ، 636ھ، 660ھ، 670ھ، 1010ھ میں اس کی تجدید کی گئی جب کہ سعودی عرب کی حکومت نے شاہ فہد کے دور میں 1417ء میں الشاذوران کی تجدید کی گئی اور اس کی تیاری میں زرد رنگ کی سنگ مرمر کی جگہ کرارہ نانی نہایت عمدہ پانچ سیٹنی میٹر موٹی ٹائل کا استعمال کیا گیا۔ صحن مطاف سے اس کی اونچائی 11 سینٹی میٹر سے 40 سینٹر میٹر تک ہے۔ الشاذوران میں 36 نئے حصے جوڑے گئے جب کہ حجر اسماعیل میں 46 حصے ہیں جن میں سے 22 بالائی سطح پر،24 دیوار حجر اسود کے ساتھ ہیں۔ اس کے ساتھ غلاف کعبہ کی 57 کڑیاں جوڑی گئی ہیں۔ الھاشمی کا کہنا ہے کہ الشاذوران کے 8 ٹکڑے باب کعبہ کی دائیں جانب نصب ہیں۔ یہ خشک جگہ ہے اور اسے گوندنے کی جگہ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی دیواریں اٹھاتے ہوئے ان کا مسالحہ اسی جگہ گوندا تھا۔ یہاں نصب شاذوران کے بلاکوں کی لمبائی 33 سینٹی میٹر اور چوڑائی 21 سینٹر میٹر ہے۔ پہلی بار یہاں پر یہ پتھر خلیفہ ابو جعفرمنصور کے دور میں نصب کیے گئے اوران کے نیچے نیلے رنگ یں 631ھ یعنی آج سے 807 سال پہلی کی تاریخ درج کی گئی۔ غلاف کعبہ 'کسوہ' خانہ کعبہ کا ذکر غلاف کعبہ کے تذکرے کے بغیر ادھورا ہے۔ سعودی محقق الھاشمی کا کہنا ہے کہ غلاف کعبہ کی تیاری مسلمان خلفاء کی اولین ترجیحات اور دلچسپیوں میں شامل رہی۔ پہلا غلاف تبع الیمانی نامی بادشاہ کےدور میں تیار کیا گیا اور چاند گرہن کے موقع پر اسے کعبے کی زینت بنایا گیا۔ اس کے بعد قریش کے جد امجد قصی بنی کلاب نے زائرین کعبہ کی خدمت کرنے والے السقایہ،[پانی پلانے والے] الرفادہ اور غلاف کعبہ تیار کرنے والوں کو جمع کیا اور نیا غلاف تیار کیا۔ یہ غلاف قریش کے دور تک رہا۔ فتح مکہ کے بعد سنہ 8 ھ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےیمنی کپڑے سے غلاف کعبہ تیار کرایا۔اموی دور حکومت میں غلاف سال میں دو بارتبدیل کیا جاتا۔ ایک 10 محرم کو اور دوسری بار ماہ صیام کے آخر میں تبدیل کیا جاتا۔ عباسی خلفاء کے دور میں غلاف کعبہ پر خلیفہ کا نام لکھنے کی روایت پڑی۔ اس کے علاوہ غلاف کی تیاری کی جگہ اور تاریخ بھی لکھی جانے لگی۔ عثمانی دور خلافت میں غلاف کعبہ مصر میں تیار کرنے کے بعد حجاز روانہ کیا جاتا۔ غلاف کی تیاری کے بعد اس کی حجاز روانگی سے قبل مصر میں اور حجاز میں جشن منایا جاتا۔ 1345ھ تک مصر غلاف کعبہ کی تیاری میں سرگرم رہا۔ مگر اس کے بعد مصری حکومت نے غلاف کعبہ کی تیاری روک دی۔ شاہ عبدالعزیز آل سعود نے 1346ھ میں چند ایام کے اندر نیا غلاف تیار کرانے کے بعد اسے کعبے کی زینت بنایا۔پرانے زمانے میں غلاف کعبہ ریشمی کپڑے سے ہاتھ سے تیار کیا جاتا تھا مگر اب سعودی عرب کی حکومت نے غلاف کعبہ کی تیاری کے لیے ایک باضابطہ کارخانہ قائم کیا ہے جس میں سال بھر ماہرین بہترین اور اعلیٰ معیار کے کپڑے سے غلاف کعبہ تیار کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ http://urdu.alarabiya.net/ur/middle-east/2016/12/30/%D8%AE%D8%A7%D9%86%DB%81-%DA%A9%D8%B9%D8%A8%DB%81-%DA%A9%DB%92-%D8%A7%DB%81%D9%85-%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%85%D8%A7%D8%AA-%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE-%DA%A9%DB%92-%D8%A2%D8%A6%DB%8C%D9%86%DB%92-%D9%85%DB%8C%DA%BA-.html
2 days ago
9:29
ویڈیو کلپ: گوشت کھانے میں حلال حرام کی تمیز کرنے والوں کے لئے اہم معلومات ............... باپ سلامت رہنا چاہئے، مگر کیوں؟ آج صبح فیس بک پر ایک پوسٹ پر دوست نے ٹیگ کیا ہوا تھا، جہاں ماں کی محبت کا ذکر تھا وہیں دوسری جانب سوال تھا کہ، باپ کی محبت کیا ہوتی ہے؟ چونکہ میں والد صاحب سے زیادہ قریب رہا ہوں اسلئے میرے لئے یہ سوال بہت معنی رکھتا ہے. جہاں تک بات ماں کی محبت کی ہے تو اس بابت تو تب سے لکھا جارہا ہے جب سے حضرت انسان نے لکھنا سیکھا تھا پر باپ ایک ایسی ذات ہے جس کی بابت شاید باپ نے بھی کبھی کھل کر نہیں لکھا اور بھلا لکھ بھی کیسے سکتا ہے کہ باپ کی محبت کا ہر رنگ نرالا اور مختلف ہے . ماں کی محبت تو بچے کی پیدائش سے لیکر اسکی آخری عمر تک ایک سی ہی رہتی ہے یعنی اپنے بچے کی ہر برائی کو پس پردہ ڈال کر اسے چاہتے رہنا. بچپن میں بچہ اگر مٹی کھائے تو اس پر پردہ ڈالتی ہے اور باپ سے بچاتی ہے ، نوجوانی میں بچے کی پڑھائی کا نتیجہ آئے تو اس رپورٹ کارڈ کو باپ سے چھپاتی ہے اور اپنے بچے کو بچاتی ہے ، جوانی میں بچے کا دیر سے گھر آنا باپ سے چھپاتی ہے اور اپنے بچے کو بچاتی ہے ٹھیک اسی طرح جیسے جیسے بچہ بڑا اور اسکے "جرائم" بڑھتے جاتے ہیں ویسے ویسے ماں اپنے پردے کا دامن پھیلاتی چلی جاتی ہے، اسکے برعکس "باپ" ایک ایسی ہستی ہے جو اپنی اولاد کو بے پناہ چاہنے کے باوجود اس پر صرف اسلئے ہاتھ اٹھاتا ہے کہ کہیں بچہ خود کو بڑے نقصان میں مبتلا نہ کر بیٹھے ، اسکی پڑھائی پر سختی برتتا ہے کہ کہیں اس کا بچہ کم علم ہونے کے باعث کسی دوسرے کا محتاج نہ بن کر رہ جاۓ ، بچے کا رات دیر سے گھر آنا اسلئے کھٹکتا ہے کہ کہیں کسی بری لت میں مبتلا ہوکر بچہ اپنی صحت اور مستقبل نہ خراب کر بیٹھے . یعنی بچے کی پیدائش سے لیکر قبر تک باپ کی زندگی کا محور اس کا بچہ اور اسکا مستقبل ہی رہتا ہے . جہاں ماں کی محبت اسکی آنکھوں سے اور عمل سے ہر وقت عیاں ہوتی ہے وہیں باپ کی محبت کا خزانہ سات پردوں میں چھپا رہتا ہے . غصہ ، پابندیاں ، ڈانٹ ، مار ، سختی یہ سب وہ پردے ہیں جن میں باپ اپنی محبتوں کو چھپا کر رکھتا ہے کہ بھلے اسکی اولاد اسے غلط سمجھے پر وہ یہ سب پردے قائم رکھتا ہے کہ اسکی اولاد انہی پردوں کی بدولت کامیابی کی سیڑھیاں چڑھنا شروع کرتی ہے . میرے ابو جی غصہ کے انتہائی سخت ہیں ہم بھائیوں پر بہت سختیاں کی ، اور شاید نوجوانی میں ہمیں ہمارا باپ دنیا کا سب سے برا اور ظالم باپ لگتا تھا کہ جو نہ ہی دوستوں کے ساتھ رات گئے تک بیٹھنے دیتا ہے اور نہ ہی جیب خرچ اتنا زیادہ دیتا ہے کہ ہم فضول عیاشیاں کرسکیں ، مار باقی بھائیوں نے تو اتنی نہیں کھائی پر اپنی عجیب حرکات پر میں نے بہت مار کھائی ہے . پر آج جب اپنے بچپن کے دوستوں کو نشے یا دیگر خرافات میں مبتلا دیکھتا ہوں تو الله کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ ہمارے والد صاحب نے ہم پر سختیاں برتیں جسکی بدولت آج کسی بھی طرح کے نشے سے خود کو بچائے رکھا ہے . اور آج اس مقام پر کھڑے ہیں کہ اپنے والدین کا سر فخر سے بلند رکھ سکیں . لیکن کیا آپکو معلوم ہے؟ کہ باپ سانسیں لیتے ہوئے بھی مر جاتے ہیں ، جیسے جیسے اولاد کا اختیار بڑھتا اور والد کا اختیار گھٹتا جاتا ہے ویسے ویسے ہی باپ " مرنا " شروع ہوجاتا ہے . جب بچہ طاقتور جوان ہونے لگتا ہے تو باپ کا ہاتھ بعض اوقات اس خوف سے بھی اٹھنے سے رک جاتا ہے کہ کہیں بیٹے نے بھی پلٹ کر جواب دے دیا تو اس قیامت کو میں کیسے سہوں گا ؟ جب بچے اپنے فیصلے خود لینے لگیں اور فیصلے لینے کے بعد باپ کو آگاہ کر کے " حجت " پوری کی جانے لگے تو بوڑھا شخص تو زندہ رہتا ہے پر اسکے اندر کا " باپ " مرنا شروع ہوجاتا ہے . باپ اس وقت تک زندہ ہے جب تک اولاد پر اسکا حق قائم ہے جس اولاد سے اس نے اتنی محبت کی کہ اپنے دل پر پتھر رکھ کر اسے تھپڑ بھی مارا ، اولاد کے آنسو بھلے کلیجہ چیر رہے ہوں پر پھر بھی اسلئے ڈانٹا کہ کہیں نا سمجھ اولاد خود کو بڑی تکلیف میں مبتلا نہ کر بیٹھے . ماں کی محبت تو یہ ہے کہ پیاس لگی (پیار آیا) تو پانی پی لیا پر باپ کی محبت یہ ہے کہ پیاس لگی تو خود کو اور اتنا زیادہ تھکایا کہ پیاس لگتے لگتے اپنی موت آپ مر گئی . چونکہ والد صاحب کا ہماری زندگی پر ہمیشہ اختیار رہا ہے لہذا عمر کے اس حصّے میں بھی کوشش ہوتی ہے کہ ابو کو کبھی احساس نہ ہو کہ اب ہم "بڑے" ہوگئے ہیں یا انکی اہمیت گھٹ چکی ہے لہذا پیسے ہونے کے باوجود اپنے ہر کام کے لئے ابو جی سے پیسے مانگنا اچھا لگتا ہے ، رات اگر کسی پروگرام سے واپسی پر دیر ہوجانے کا خدشہ ہو تو آدھا گھنٹے ابو جی کی پہلے منتیں کرنی پڑتی ہیں کہ پلیز جانیں دیں جلدی واپس آجاؤں گا ، روڈ کراس کرتے ہوئے ابو جی آج بھی ہمارا ہاتھ پکڑ کر رکھتے ہیں اور ہم بھائی دل ہی دل میں ہنستے ہوئے اور آس پاس کھڑے لوگوں کی نظروں کو نظرانداز کرتے ہوئے ابو کا ہاتھ پکڑ کر روڈ کراس کرتے ہیں . باپ کی محبت اولاد سے ماسوائے اسکے اور کچھ نہیں مانگتی کہ " باپ " کو زندہ رکھا جاۓ ،پھر چاہے وہ چارپائی پر پڑا کوئی بہت ہی بیمار اور کمزور انسان ہی کیوں نہ ہو ، اگر اسکے اندر کا " باپ " زندہ ہے تو یقین جانیئے اسے زندگی میں اور کسی شے کی خواہش اور ضرورت نہیں ہے، اگر آپ کے والد صاحب سلامت ہیں تو خدارا اسکے اندر کا " باپ " زندہ رکھئیے یہ اس "بوڑھے شخص" کا آپ پر حق بھی ہے اور آپکا فرض بھی ہے !! جزاکم اللہ خیر
6 days ago
3:01
جھوٹی حدیث سے بچئے مولانا محمد الیاس گھمن صاحب دامت برکاتہم ................. غیر مقلد عالم حافظ زبیر علی زئی صاحب کی آٹھ رکعت تراویح پر دلیل نمبر 6 کا تحقیقی جائزہ قسط 6 جناب السائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:بے شک عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو ابی بن کعب اور تمیم الداری رضی اللہ تعالیٰ عنہما پر جمع کیا، پس وہ دونوں گیارہ رکعات پڑھاتے تھے۔(مصنف ابن ابی شیبہ۳۹۲/۲ ح ۷۶۷۰) 🌹 الجواب: مندرجہ بالاحدیث بھی حضرت سائب بن یزیدؓسےہی مروی ہے اوراس کے تمام راوی بھی وہی ہیں جو دلیل نمبر ۴اور ۵ کی حدیث کے ہیں صرف کتاب کا فرق ہےاور موصوف نے اس کو بھی ایک الگ دلیل بنا کر پیش کردیا لہٰذا یہ بھی وہی حدیث ہے جس کا جواب دلیل نمبر ۴کے جواب میں گزرچکا ہے۔ ان دونوں احادیث کے متن میں بھی اضطراب واضح نظر آرہا ہے اور اضطراب بھی ایسا کہ کسی ایک حدیث کو ترجیح بھی نہیں دی جاسکتی کیونکہ دونوں احادیث سند کے لحاظ سے بالکل صحیح ہیں لہٰذایہ روایت بھی مضطرب المتن ہے اور اجماع کے خلاف بھی اس لئے اس حدیث سے استدلال کرنادرست نہیں۔ موطا امام مالکؒ میں یزید بن خصیفہؒ کے طریق سے حضرت سائب بن یزیدؓ کی روایت ہے کہ عہد فاروقی میں بیس رکعت تراویح تھیں۔ (فتح الباری لابن حجر ج ۴ ص ۳۲۱، نیل الاوطار للشوکانی ج۲ ص ۵۱۴) علامہ بیہقی نے کتاب المعرفہ میں نقل کیا ہے کہ حضرت سائب بن یزیدؓفرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروقؓ کے دور حکومت میں ہم ۲۰ رکعت تراویح اور وتر پڑھا کرتے تھے۔ امام زیلعیؒ نے اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔(نصب الرای ج ۲ص ۱۵۴) حافظ ابن الصلاح ؒ جو بہت بڑے محدث گزرے ہیں علم حدیث کی کتاب [تدريب الراوی ]جو کہ تمام مکتبِ فکر(عرب و عجم)میں پڑھائی جاتی ہے اس میں فرماتے ہیں :’’بعض اوقات حدیث کی سند بالکل صحیح ہوتی ہے اس کے باوجود وہ مضطرب ہوتی ہے‘‘۔ پتہ چلاکہ حضرت عمر ؓ نے ۲۰بیس رکعات تراویح کا ہی حکم دیا تھا ، لہٰذایہ روایت مضطرب المتن ہے اور اجماع کے خلاف بھی اس لئے اس حدیث سے استدلال کرنادرست نہیں۔امام مالک ؒجو اس حدیث کو اپنی کتاب میں رقم کر رہے ہیں خود بھی اس حدیث پر عمل نہیں کرتےتھے۔ اگر آٹھ رکعات تراویح کی ایک حدیث بھی صحیح ہوتی تو ۱۲صدی ہجری سے قبل کوئی ایک امام، محدث،مفسرتو ایسا گزرا ہوتا جس نے آٹھ رکعت تراویح کی ان احادیث پر عمل کیا ہوتا یا پھر کوئی ایک مسجد تو ایسی ہوتی جس میں آٹھ رکعات تراویح پڑھائی جاتی۔ جاری واٹسیپ گروپ احناف میڈیا سروس 7051576647 🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻🔻
11 days ago
1:36
سورہ فاتحہ کی تلاوت؛ ایک سانس میں .................................................... Bismillahirrahmanirrahim جس مسلمان کے لئے چار آدمی اچھائی کی گواہی دے دیں اسے اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کرتا ہے۔ ✦ Hadith : Jis musalman ke janaze liye 2 aadmee achchayee ki gawahi de de usko Allah subhanahu jannat mein dakhil farmata hai -------------- ✦ Abu Aswad Radi Allahu Anhu se rivayet hai main madinah aaya to yahan waba phailee hui thi, log badi tezi se mar rahe they. main Hazrat Umar radi Allahu anhu ki khidmat mein tha ke ek janaza guzra logon ne is mayyat ki tareef ki to Hazrat Umar Radi Allahu anhu ne kaha ke (Jannat) wajib ho gayi. phir dusra guzara logon ne is ki bhi tareef ki Hazrat Umar Radi Allahu anhu ne kaha (Jannat) wajib ho gayi. phir teesra guzra to logon ne uski buraiee ki, Hazrat Umar Radi Allahu anhu ne kaha ki (Dozakh) wajib ho gayi. maine poocha Ya Ameer ul Momineen kya wajib ho gayi. Unho ne kaha ke maine isee tarah kaha hai jis tarah Rasool-Allah Sal-Allahu Alaihi Wasallam ne farmaya tha ki jis musalman ke (janaze ke) liye chaaar aadmee achchayee ki gawahi de de usko Allah subhanahu jannat mein dakhil farmata hai humne Aap Sal-Allahu Alaihi Wasallam se pucha aur agar 3 de ? to Aap Sal-Allahu alaihi wasallam ne farmaya ki 3 par bhi humne pucha aur agar 2 aadmi gawahi de ? farmaya 2 par bhi, phir humne ek ke mutalliq aapse nahi pucha Sahi Bukhari, 2643 -------------- ابی الاسود رضی الله انہو سے روایت ہے کہ میں مدینہ آیا تو یہاں وبا پھیلی ہوئی تھی، لوگ بڑی تیزی سے مر رہے تھے ۔ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں تھا کہ ایک جنازہ گزرا۔ لوگوں نے اس میت کی تعریف کی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ واجب ہوگئی ۔ پھر دوسرا گزار لوگوں نے اس کی بھی تعریف کی حضرت عمر نے کہا واجب ہوگئی ۔ پھر تیسرا گزرا تو لوگوں نے اس کی برائی کی، حضرت عمر نے اس کے لئے یہی کہا کہ واجب ہوگئی ۔ میں نے پوچھا: امیرالمؤمنین! کیا واجب ہوگئی؟ انہوں نے کہا کہ میں نے اسی طرح کہا ہے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جس مسلمان کے لئے چار آدمی اچھائی کی گواہی دے دیں اسے اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کرتا ہے۔ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور اگر تین دیں؟ آپ نے فرمایا کہ تین پر بھی ۔ ہم نے پوچھا اور اگر دو آدمی گواہی دیں؟ فرمایا دو پر بھی۔ پھر ہم نے ایک کے متعلق آپ سے نہیں پوچھا ۔ صحیح بخاری ٢٦٤٣ ------------- ✦ अबू असवद रदी अल्लाहू अन्हु से रिवायत है की है मैं मदीना आया तो यहाँ वबा (बीमारी) फैली हुई थी, लोग बड़ी तेज़ी से मार रहे थे. मैं हज़रत उमर रदी अल्लाहू अन्हु की खिदमत में था के एक जनाज़ा गुज़रा लोगों ने इस मय्यत की तारीफ की तो हज़रत उमर रदी अल्लाहू अन्हु ने कहा के (जन्नत) वाजिब हो गयी. फिर दूसरा गुज़रा लोगों ने इस की भी तारीफ की हज़रत उमर रदी अल्लाहू अन्हु ने कहा (जन्नत) वाजिब हो गयी. फिर तीसरा गुज़रा तो लोगों ने उसकी बुराई की तो हज़रत उमर रदी अल्लाहू अन्हु ने कहा की (दोज़ख़) वाजिब हो गयी. मैने पूछा या अमीर उल मोमिनीन क्या वाजिब हो गयी. उन्होने कहा के मैने इसी तरह कहा है जिस तरह रसूल-अल्लाह सल-अल्लाहू अलैही वसल्लम ने फरमाया था की जिस मुसलमान के (जनाज़े के) लिए चार आदमी अच्छाई की गवाही दे दे उसको अल्लाह सुबहानहु जन्नत में दाखिल फरमाता है हमने आप सल-अल्लाहू अलैही वसल्लम से पूछा और अगर 3 दे ? तो आप सल-अल्लाहू अलैही वसल्लम ने फरमाया की 3 पर भी हमने पूछा और अगर 2 आदमी गवाही दे ? फरमाया 2 पर भी, फिर हमने एक के मुताल्लिक़ आपसे नही पूछा सही बुखारी, जिल्द 4, 2643
10 days ago
1:47
ڈی این اے کی لمبائی ڈی این اے کی لمبائی حیرت کا ایک سمندر ہے۔ ایک انسانی خلیے میں تقریباً چھ فٹ لمبا ڈی این اے کا دھاگہ پایا جاتا ہے۔ ایک مکمل انسان کے تمام خلیوں کے ڈی این اے کو لمبائی کے رخ پر جوڑا جائے تو اس کی لمبائی تقریباً گیارہ ارب کلومیٹر بنتی ہے جو زمین کے سورج کے فاصلے سے ستر گنا سے بھی زائد ہے۔ یعنی ایک جدید ترین الٹرا سونک طیارہ جس کی رفتار آواز سے آٹھ گنا تیز ہے وہ اس فاصلے کو سوا صدی میں طے کرے گا۔ اگر ایک ٹائپسٹ 60 الفاظ فی منٹ کی رفتار سے 8 گھنٹے روزانہ ڈی این اے کے نیوکلیوٹائیڈز کو ظاہر کرنے والے مخفف حروف تہجی ہی کو ٹائپ کرے تو بغیر کسی چھٹی اور آرام کے بغیر پندرہ سال میں صرف ایک خلیے کا ڈی این اے لکھا جا سکتا ہے۔ جبکہ اس سے جو کتاب تیار ہو گی اگر اس کے ایک صفحے پر پانچ سو الفاظ ہوں اور کل 1000 صفحات ہوں تو ایسی 280 کتابیں تیار ہوں گی جن پر صرف ایک خلیے کی معلومات ہوں گی۔ ایک انسان کے تمام خلیوں کی معلومات لکھنے کے لیے روئے زمین کے تمام وسائل ناکافی ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ “زمین میں جتنے درخت ہیں اگر وہ سب کے سب قلم بن جائیں اور سمندر (دوات بن جائے) جسے سات مزید سمندر روشنائی مہیا کریں تب بھی اللہ کی باتیں (لکھنے سے) ختم نہ ہوں گی۔ بے شک اللہ زبردست اور حکیم ہے”۔ (سورہ لقمان آیت نمبر 27) اتنی لمبائی کے باوجود یہ انتہائی کم جگہ گھیرتا ہے۔ ڈی این اے کے دس لاکھ نیوکلیوٹائیڈ اتنی جگہ گھیرتے ہیں جتنی جگہ پر کمپیوٹر ایک میگا بائٹ ڈیٹا سٹور کرتا ہے۔ اور ایک خلیے کا مکمل ڈی این اے 3 گیگا بائٹ جگہ گھیرتا ہے۔
13 days ago
4:51
س… نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان کی نمازِ جنازہ کس نے پڑھائی؟ اور آپ کی تدفین اور غسل میں کن کن حضرات نے حصہ لیا؟ اور آپ کے بعد خلافت کے منصب پر کس کو فائز کیا گیا اور کیا اس میں بالاتفاق فیصلہ کیا گیا؟ ج… ۳۰/صفر (آخری بدھ) کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوصال کی ابتدا ہوئی، ۸/ربیع الاوّل کو بروز پنجشنبہ منبر پر بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں بہت سے اُمور کے بارے میں تاکید و نصیحت فرمائی۔ ۹/ربیع الاوّل شبِ جمعہ کو مرض نے شدّت اختیار کی، اور تین بار غشی کی نوبت آئی، اس لئے مسجد تشریف نہیں لے جاسکے، اور تین بار فرمایا کہ: “ابوبکر کو کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں!” چنانچہ یہ نماز حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور باقی تین روز بھی وہی امام رہے، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سترہ نمازیں پڑھائیں، جن کا سلسلہ شبِ جمعہ کی نمازِ عشاء سے شروع ہوکر ۱۲/ربیع الاوّل دوشنبہ کی نمازِ فجر پر ختم ہوتا ہے۔ علالت کے ایام میں ایک دن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں (جو بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری آرام گاہ بنی) اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم کو وصیت فرمائی: “انتقال کے بعد مجھے غسل دو اور کفن پہناوٴ اور میری چارپائی میری قبر کے کنارے (جو اسی مکان میں ہوگی) رکھ کر تھوڑی دیر کے لئے نکل جاوٴ، میرا جنازہ سب سے پہلے جبریل پڑھیں گے، پھر میکائیل، پھر اسرافیل، پھر عزرائیل، ہر ایک کے ہمراہ فرشتوں کے عظیم لشکر ہوں گے، پھر میرے اہلِ بیت کے مرد، پھر عورتیں بغیر امام کے (تنہا تنہا) پڑھیں، پھر تم لوگ گروہ در گروہ آکر (تنہا تنہا) نماز پڑھو۔” چنانچہ اسی کے مطابق عمل ہوا، اوّل ملائکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھی، پھر اہلِ بیت کے مردوں نے، پھر عورتوں نے، پھر مہاجرین نے، پھر انصار نے، پھر عورتوں نے، پھر بچوں نے، سب نے اکیلے اکیلے نماز پڑھی، کوئی شخص امام نہیں تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل حضرت علی کرّم اللہ وجہہ نے دیا، حضرت عباس اور ان کے صاحبزادے فضل اور قثم رضی اللہ عنہم ان کی مدد کر رہے تھے، نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو موالی حضرت اُسامہ بن زید اور حضرت شقران رضی اللہ عنہما بھی غسل میں شریک تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سحولی (موضع سحول کے بنے ہوئے) سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے روز (۱۲/ربیع الاوّل) کو سقیفہ بنی ساعدہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت ہوئی، اوّل اوّل مسئلہٴ خلافت پر مختلف آراء پیش ہوئیں، لیکن معمولی بحث و تمحیص کے بعد بالآخر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے انتخاب پر اتفاق ہوگیا اور تمام اہلِ حل و عقد نے ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔ از شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نور اللہ مرقدہ
22 days ago
2:33
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی انوکھی تدبیر اصلاح حضرت تھانوی رحمتہ اللہ کے ایک مرید تھے، انہوں نے ایک دفعہ آپ کو خط لکھا کہ میری آنکھیں بے اختیار غلط چیز یعنی نامحرموں کی طرف اٹھ جاتی ہیں، لہذا کوئی علاج بتائیں- حضرت تھانوی رحمت اللہ علیہ نے جواب لکھا کہ اگر بے اختیار اٹھ جاتی ہیں، تو آپ کو فکر کی کیا ضرورت ہے؟ آپ پریشان کیوں ہیں؟ اٹھنے دیجئے، کیونکہ غیر اختیاری چیز پر کوئی گناہ لازم نہیں آتا- اس جواب سے ان کو احساس ہوا کہ میں نے غلط بیانی کی ہے، بے اختیار آنکھیں نہیں اٹھتیں بلکہ اختیار سے ہی اٹھتی ہیں؛ لہذا دوسرا خط لکھا کہ کہ حضرت! بے اختیار تو نہیں اختیار سے ہی اٹھتی ہیں لیکن نگاہ اٹھنے کے بعد نیچے کرنے کی طاقت نہیں پاتا - اس کا جواب حضرت رحمت اللہ علیہ نے لکھا کہ یہ بات بھی تمہاری غلط ہے، اس لئے کہ فلسفے کا یہ مانا ہوا اصول ہے کہ کسی بھی چیز کا اختیار دونوں طرف سے متعلق ہوتا ہے، طرفین سے متعلق ہوتا ہے، یعنی آدمی اگر کوئی کام کرسکتا ہے، تو اس کام کو نہ کرنے کی بھی طاقت رکھتا ہے، ایسا نہیں کہ کر تو سکے ؛ لیکن نہ کرنے کی طاقت نہ رہے، یہ چیز اٹھارہا ہوں، اگر چاہوں تو نہ اٹھاؤں، دونوں باتیں اختیار میں ہوتی ہیں، یہ کیسے کہ نگاہ اٹھ تو گئی، اب نیچی نہیں کرسکتا۔ اس پر ان صاحب کو پھر اپنی غلطی کا احساس ہوا اور تیسرا خط حضرت کو لکھا، اس میں انہوں نے لکھا کہ حضرت! معافی چاہتا ہو ں، پھر غلطی ہوئی، نگاہ کو بچانے کی طاقت تو ہوتی ہے؛ لیکن ہمت نہیں ہوتی ہے - حضرت رحمت اللہ علیہ نے کہا کہ ہاں! یہ صحیح ہے، بہت سے لوگوں کو طاقت تو ہوتی ہے؛ لیکن ہمت نہیں کرتے اور ہمت ہی سے تو سب کچھ ہوتا ہے ، آدمی ہمت کرے تو پہاڑ کو ریزہ ریزہ کردے، اگر آدمی کوشش کرے اور ہمت کرے، تو معلوم نہیں کہاں سے کہاں پہنچ جائے، یہ ہمت ہی تو ہے کہ آج پوری دنیا کہاں سے کہاں پہنچی ہوئی ہے ،تو ہمت سے بہت کچھ ہوتا ہے - الغرض! حضرت رحمت اللہ علیہ نے ان کو لکھا کہ آپ کی اصل بیماری ہمت میں کمی ہے، اچھا ٹھیک ہے ؛ لیکن یہ فرمائیے کہ اگر میں بھی اس وقت تمہارے ساتھ ساتھ چل رہا ہوں، تب بھی ایسا ہی ہوگا کہ غیر محرموں کو دیکھتے رہوگے اور یہ کہوگے کہ بچنے کی ہمت نہیں ہوتی؟ اس پر ان صاحب کا خط آیا کہ حضرت! اگر آپ ساتھ ہوں، تو ایسا نہیں ہو گا؛ بلکہ پھر تو نگاہیں نیچی ہو جائیں گی - پھر حضرت نے ان کو جواب لکھا کہ جب میرے ساتھ ہونے کے خیال سے نگاہیں نیچی ہوسکتی ہیں، تو خالق دو جہاں کے ساتھ ہونے کے تصور سے نگاہ کیوں نیچی نہیں ہوسکتی؟ یہ ہے اصلاح کا طریقہ، عجیب و غریب طریقے سے اصلاح ہوتی ہے، اگرچہ کئی کئی خطوط کا تبادلہ ہوتا تھا؛ لیکن بات دل میں اچھی طرح پیوست ہوجاتی تھی- تو بتانے کی بات یہ ہے کہ اہل اللہ کی صحبت کا ایک فائدہ یہ ہے کہ ان سے اصلاح کے نسخے معلوم ہوں گے اور ہم اپنی اصلاح کر نے میں اور گناہوں سے بچنے میں کامیاب ہو سکیں گے - اس لیے آپ حضرات سے درخواست ہے کہ ہر شخص اپنے لیے ایک مصلح یا شیخ یا پیر کو چن لے، تاکہ آپ کی باطنی بیماری کی صحیح اصلاح ہو سکے. دعاہے کہ اللہ تعالٰی ہم سب کو اپنی اصلاح کی توفیق دے ۔ آمین ثم آمین طالب دعا: عطاء اللہ حلیمی ٤ جمادی الاخری ١٤٣٩ ھ مطابق 21 فروری بروز بدھ 2018 عیسوی
3 months ago
Loading...