علماءاحناف،دیوبند۔الہند

Book

السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
اس پیج پرآپ کے آنے کیلئے اور اس کولائیک کرنےپر ہم آپکا شکریہ اداکرتے ہیں ...

0:06
حج کی سعی کا وقت اور طواف زیارت سے پہلے اس کی ادائی ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میقات کے اندر رہنے والوں (مکی ) کے لئے حج افراد کرنا ہے ، حج قران و تمتع ان کے لئے منع ہے ، لیکن اگر وہ پہر بھی کرلیں تو دم کے ساتھ جائز ہوجائے گا ارشاد الساری میں ہے: لاقران لاھل مکۃ ای حقیقۃ اوحکما ولا لاھل المواقیت ۔۔۔۔۔فمن قرن منھم کان مسیئا و علیہ دم جبر ۔ ( فصل فی قران المکی، ص: ۳۷۸،ط: امدادیہ) وکذا فی غنیۃ الناسک ، باب التمتع، فصل ، ص: ۲۲۰ط: ادارۃ القران) حج قران وتمتع صرف آفاقیوں کے لیے ہے حج قرآن میں بھی اور حج تمتع میں بھی حنفیہ کے نزدیک دو طواف اور دو سعی ضروری ہیں ۔ ایک طواف وسعی عمرہ کی اور ایک طواف وسعی حج کی ۔ سعی کے لئے طواف کے بعد (خواہ عمرہ کی سعی ہو یا حج کی ) ہونا ضروری ہے حج کی سعی کے لئے ضروری ہے کہ طواف زیارت (جو رکن حج ہے ) کے بعد ہو طواف زیارت کا وقت دس ذی الحجہ سے بارہ ذی الحجہ کے غروب آفتاب کے وقت تک ہے تو لامحالہ یہی وقت حج کی سعی کا بھی ہوگا لیکن ہاں ! اگر عمرہ کی سعی کے بعد ایک اور اضافی طواف (عمرہ کے طواف کے علاوہ ) کرکے حج کی سعی پہلے ہی کرلی جائے تو اس صورت میں طواف زیارت کے بعد دوبارہ حج کی سعی کی ضرورت نہیں بچے گی اتنی گنجائش فقہ حنفی میں الحمد للّٰہ موجود ہے ایام نحر میں مسعی کھچا کھچ بھڑا رہتا ہے ایام حج شروع ہونے سے پہلے ہی اگر نفلی طواف کرکے حج تمتع وقران کی پیشگی سعی کرلی گئی ہو تو طواف زیارت کے بعد مشکلات سے بچا سکتا ہے ۔ ایام نحر میں ہر آفاقی طواف زیارت کرکے جلد سے جلد رکن حج کی تکمیل سے فراغت چاہتا ہے اس لئے ازدحام شدید ہوجاتا ہے ،اگر کوئی شرط مذکور کے ساتھ ایام حج سے پہلے تقدیم سعی کی سہولت سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو شرعا اسے یہ حق حاصل ہے واللہ اعلم *شكيل منصور القاسمي* مركز البحوث الإسلامية العالمي [email protected] https://www.facebook.com/muftishakeelqasmi/ https://t.me/muftishakeelqasmi رابطہ نمبر : +5978836887 واللہ اعلم شکیل منصور القاسمی
2 months ago
1:54
آسام شہریت معاملہ پر مولانا بدرالدین اجمل کی اپیل ......................... National Register of Citizens این آر سی یعنی ایک ایسا رجسٹر تیار کیا جارہا ہے، جس میں ہمیں ثابت کرنا ہوگا کہ ہمارے آباء و اجداد ہندوستان کے رہنے والے تھے اور ہم ہندوستان ہی کے شہری ہیں. اسے آسام سے شروع کیا گیا ہے جسے پورے ملک میں نافذ کیا جائے گا، لہذا وقت رہتے اپنی شہریت ثابت کرنے والے سارے کاغذات درست کرلیں ورنہ وہ دن دور نہیں جب کہیں آسام جیسا حال اور شہروں میں نہ ہو . اس لئے ووٹر لسٹ میں اپنا نام رجسٹر کروالیں . آدهار کارڈ ، ووٹر آڈی ، پرمانینٹ ایڈریس پروف شخصی آئی ڈی پروف ، بینک اکاؤنٹ ، پاسپورٹ چاہے ضرورت نہ بهی ہو ، تب بهی بنواکر رکھ لیں اور ہر کسی میں ایک ہی نام اور اسپیلنگ ہو اس کا ضرور خیال رکھیں . نگر پالیکا ، گرام پنچایت ، نگر پنچایت جس بهی علاقہ میں آپ رہتے ہیں اپنا "فیملی رجسٹر" ضرور اپڈیٹ کرواتے رہیں اور پیدائش وفات درج کراتے رہیں . خاص طور سے ہم مسلمانوں میں ان چیزوں کو لے کر بہت لاپروائی اور سستی پائی جاتی ہے ، اس لئے وقت رہتے ہوشیار ہوجائیں . الله نے آپ کو کسی قابل بنایا ہے ، تو برائے مہربانی خدمت خلق کی نیت سے اپنے گهر والوں ، محلے اور پڑوس والوں کے لئے اس کام میں مدد کریں . اور اپنے محلے کے وارڈ ممبروں سے بهی اس کے لئے مدد لے سکتے ہیں . دوسروں کے کام آنا بہت بڑا ثواب ہے . اللہ آپ کو اس کا اجر دے گا . قوم و ملت کی خیر و بهلائی میں باہم تعاون کریں . = سوشل ریفارمر کیمپین = (ہندی سے ترجمہ: خورشید راہی فیضی، حیدرآباد)
2 months ago
1:44
بیعت سے متعلق علم عظیم ..... سوال بیعت کیا ہے؟ جواب عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ایک موقع پر ہم نو یا آٹھ یا سات افراد نبی کریم صلی اللہ کی خدمت میں حاضر تھے، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم. کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرتے؟ ہم نے اپنے ہاتھ پھیلا کر عرض کیا کہ یارسول اللہ! کس امر پر بیعت کریں؟ فرمایا: اس بات پر کہ اللہ کی عبادت کرو گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے، پانچوں نمازیں پڑھو گے، (احکام کو) سنو گے اور ان کی اطاعت کروگے". یہ روایت صحیح مسلم کے علاوہ سنن ابوداود اور سنن نسائی میںبھی مذکور ہے. علماء لکھتے ہیں کہ: بیعت کی یہ صورت بیعتِ طریقت ہے، اس کا مضمون بتاتا ہے کہ یہ بیعتِ اسلام یا بیعتِ جہاد نہیں. بیعت کی حقیقت منزلِ مقصود تک پہنچنے کے لیے کسی واقف کار کو رہبر ورفیق مان لینا اور گمراہی کے خطرات سے بچاؤ اور راہ کو سہولت وراحت سے طے کرنے کے لیے اس کے ساتھ یا پیچھے چلنا ہے، یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے مریض اپنے آپ کو طبیب کے سپرد کرکے دوا و پرہیز کے سلسلے میں اس کی ہدایات پر عمل کرتا ہے. اس کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ نفس کے بعض امراض خفیہ ہوتے ہیں، جو ہر ایک کو سمجھ نہیں آتے، یا سمجھ آبھی جائیں تو ان کا علاج سمجھ نہیں آتا، اور اگر علاج سمجھ آبھی جائے تو نفس کی کشاکشی کی بنا پر اس پر عمل مشکل ہوجاتا ہے، ایسے موقع پر شیخ نفس کے احوال کو سمجھ کر رہبری کرتا ہے. فقط واللہ اعلم http://www.banuri.edu.pk/readquestion/%D8%A8%DB%8C%D8%B9%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%D8%AA/25-02-2017
2 months ago
6:31
رات کو خداوند کی عبادت کے لئے نہ اٹھنے والے کی برائی راوی: عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍص قَالَ ذُکِرَ عِنْدَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم رَجُلٌ فَقِےْلَ لَہُ مَا زَالَ نَآئِمًا حَتّٰی اَصْبَحَ مَا قَامَ اِلَی الصَّلٰوۃِ قَالَ ذَالِکَ رَجُلٌ بَالَ الشَّےْطٰنُ فِیْ اُذُنِہِ اَوْ قَالَ فِیْ اُذُنَےْہِ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم ) " اور حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ (ایک دن) سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی کا ذکر آیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ وہ آدمی صبح تک سویا رہتا ہے نماز کے لئے نہیں اٹھتا " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ " وہ ایسا آدمی ہے کہ اس کے کان میں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے دونوں کانوں میں شیطان پیشاب کرتا ہے۔" (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح " نماز" سے مراد تہجد کی نماز بھی ہو سکتی ہے اور فجر کی نماز بھی یعنی یا تو یہ آدمی تہجد کی نماز کے لئے نہیں اٹھتا ہوگا یا یہ کہ فجر کی نماز اس کی قضا ہو جاتی ہوگی۔ بہر حال شیطان کے پیشاب کرنے کے بارے میں بعض علماء نے کہا ہے کہ حقیقۃً ایسا ہوتا ہے چنانچہ بعض صالحین کے بارے میں منقول ہے کہ (کسی دن) ان کی آنکھ نہ کھلی جس کی وجہ سے (تہجد یا فجر کی فرض) نماز پڑھ سکے چنانچہ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ ایک آدمی جو سیاہ رنگ کا تھا آیا اور اس نے اپنا پیر اٹھا کر ان کے کان میں پیشاب کر دیا۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ " شیطان کا پیشاب کرنا " اس بات سے کنایہ ہے کہ شیطان ایسے آدمی کو حقیر و ذلیل سمجھتا ہے کیونکہ یہ قاعدہ ہے کہ جو آدمی کسی چیز کو حقیر و کمتر سمجھتا ہے تو اس پر پیشاب کر دیتا ہے۔ http://www.hadithurdu.com/09/9-1-1196/
2 months ago
0:48
آج بحمدہ تعالی بندہ کو استاذِ محترم مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتھم کے دفتر میں کچھ وقت گزارنے کی توفیق نصیب ہوئی جن میں جو کچھ دیکھنے و سیکھنے کو ملا، اس سے اس حقیقت کا شدت سے احساس ہوا کہ اللہ والوں کی صحبت کی ایک گھڑی ہزار کتب کے مطالعہ پر بھاری ہوتی ہے۔ قسم ہا قسم کے لوگ اپنے مسائل، مشاورت اور دعا کے لئے آتے رہے اور حضرت کے اندازِ برتاؤ سے بندہ اپنی ناقص فہم کے باوجود بہت کچھ سکھتا رہا۔ ظہر کی نماز کے بعد پنجاب کے ممتاز و بزرگ عالم، جامعہ مدنیہ لاہور کے سینیئر مفتی، دارالافتاء وا لتحقیق لاہور کے رئیس اور متعدد کتابوں کے مصنف جناب مفتی ڈاکٹر عبد الواحد صاحب تشریف لائے۔ علماء و طلبا جانتے ہںں کہ اسلامی بنکا ری و جدید مالی معاملات کے مسائل پر حضرت مفتی تقی عثمانی اور حضرت ڈاکٹر عبدا الواحد صاحب کے درمیان شدید اختلاف ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے متعدد کتابوں میں بالخصوص "جدید معاشی مسائل اور حضرت مولانا تقی عثمانی کے دلائل کا جائزہ" میں مفتی صاحب کے مؤقف پر خوب تنقید کی ہے اور مفتی صاحب نے اپنی کتاب "غیر سودی بینکاری" میں ان کا دلائل کے ساتھ بھر پور جواب بھی دیا ہے۔ اس قدر اختلافات کے باوجود ۔۔۔۔ یہ دونوں حضرات جس محبت و باہمی احترام کے ساتھ گفتگو فرمارہے تھے۔۔۔۔ اس میں ان اہلِ علم حضرات کے لے خصوصا اور عوام کے لےعموما بہت ہی اہم سبق ہے جو چھوٹے چھوٹے اختلافات پر اعتدال اور ادب کا دامن چھوڑ دیتے ہںو۔ حضرت ڈاکٹر صاحب عرصہ سے رعشہ کے مریض ہیں ۔۔۔ ستر سال سے زائد عمر کی وجہ سے چلنا مشکل ہے ، پھر بھی علمِ دین کی سچی طلب میں خود چل کر تشریف لائے، حالانکہ پانچ دس منٹ کےیہ سوالات وہ فون پر بھی کرسکتے تھے۔ طرز کلام میں عاجزی اور نہایت محبت کا انداز نمایاں تھا۔۔ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی طالب علم اپنے استاذ سے محو گفتگو ہو۔۔۔اللہ اکبر۔۔۔ ڈاکٹر صاحب نے ملاقات کے آخر میں اپنے لرزتے ہاتھوں سے مفتی صاحب کو ہدیہ پیش کیا تو مفتی صاحب بڑی محبت سے فرمانے لگے کہ آپ کا تشریف لانا کوئی کم اعزاز تھا جو آپنے مزید بھی تکلف کیا۔۔۔۔ پھر اپنی تمام تر مصروفیات اور دور دور سے آئے ہوئے مہمانوں کو چھوڑ کر مفتی صاحب خود ان کو سہارا دے کر دفتر سے باہر لائے ۔گاڑی دفتر کے بالکل سامنے دروازے کے پاس لانے کا فرمایا۔۔۔اس جگہ کوئی گاڑی کسی کو لانے کی عام طور پر اجازت نہںی ہوتی۔۔۔ ڈاکٹر صاحب کو ہاتھ تھام کر باہر گاڑی تک رخصت کرنے تشریف لائے اور ڈاکٹر صاحب کے بار بار منع کرنے کے باوجود خود گاڑی مں سہارا دے کر بٹھایا۔ اختلافات اپنی جگہ مگر باہمی احترام، سچی طلب، قدر دانی و حسنِ اختلاف کی اس زندہ جاوید مثال مں سکھنے والوں کے لے بہت سے سبق چھپے ہیں خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طنت را از بندہ محمد وصی بٹ بتاریخ ۲۸ جولائی ۲۰۱۸ ء
3 months ago
3:34
اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر شھید زندہ ہیں یہ تیرے پراسرار بندے امام سمودرا Imam samodra کے نام سے جانے جاتے شہید عمر الاندونیشی انڈونیشیا میں راہ حق اعلاء کلمۃ اللہ جماعت کے قائد تھے. اور آپ نے 2002 میں بالی شہر میں دشمن پر حملہ کرکے 88 دیگر اتحادیوں سمیت 202 صلیبیوں کو واصل جہنم کیا. یاد رہے مارے جانے والے صلیبیوں کے ممالک کا اتحاد بشمول آسٹریلیا ناٹو کے نام سے #امارت_اسلامیہ پر حملہ آور ہوا تھا جس کا یہ انتقام لیا گیا تھا. آپ اپنے کچھ ساتھیوں سمیت گرفتار ہوئے. اور کفار کی سربلندی تسلیم کرنے واضح انکار کردیا. صلیبیوں کو خوش کرنے کے لیے انڈونیشیا کی حکومت نے آپ کا میڈیا کے سامنے اوپن ٹرائل کیا. وہ تاریخی لمحات انٹرنیٹ پر اب بھی موجود ہیں جن میں آپ نے عدالت کی جانب سزائے موت پر بے حد خوشی کا اظہار کیا. آپ کو 9 نومبر 2008 کے دن جیل میں شہید کردیا گیا تھا. آپ کے انٹرویوز اور تقاریر آج بھی انڈونیشیا کی مسلمان عوام میں جذبہ راہ حق جگائے رکھتی ہیں. 23 جولائی 2018 میں آپ کے جسم کو منتقل کرنے کی ضرورت پیش آئی تو امت نے ایک دہائی قبل کے شہید کو اس تروتازہ حالت میں ملاحظہ کیا. اس مبارک موقع پر ہم خوارج و مرجئہ سے بالکل مخاطب نہیں ہونا چاہیں گے. مگر یہ #دعوت_عمل تو امت کے جری نوجوانوں کے لیے ہے. آئیں ، اٹھیں ، جاگیں اور "ولکن لا تشعرون" والی پرنور زندگی کو پالیں. اے اللہ ہمیں بھی اپنے دین کی سربلندی کے لیے خالص کرلیجیے اور مقبول شہادت کے انعام سے نواز دیجیے۔۔۔۔۔۔! یہ بھی یاد رہے آپ کے ایک ساتھی عمر پاتک کو پڑوسی ملک کی فوج نے گرفتار کر کے کفر کے حوالے کیا تھا 🌸۔
3 months ago
7:56
اختلاف کا حسن آج بحمدہ تعالی بندہ کو استاذِ محترم مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتھم کے دفتر میں کچھ وقت گزارنے کی توفیق نصیب ہوئی جن میں جو کچھ دیکھنے و سکھنے کو ملا، اس سے اس حقیقت کا شدت سے احساس ہوا کہ اللہ والوں کی صحبت کی ایک گھڑی ہزار کتب کے مطالعہ پر بھاری ہوتی ہے۔ قسم ہا قسم کے لوگ اپنے مسائل، مشاورت اور دعا کے لے آتے رہے اور حضرت کے اندازِ برتاؤ سے بندہ اپنی ناقص فہم کے باوجود بہت کچھ سکھتارہا۔ ظہر کی نماز کے بعد پنجاب کے ممتاز و بزرگ عالم، جامعہ مدنیہ لاہور کے سینیئر مفتی، دارالافتاء وا لتحقیق لاہور کے رئیس اور متعدد کتابوں کے مصنف جناب مفتی ڈاکٹر عبد الواحد صاحب تشریف لائے۔ علماء و طلبا جانتے ہںں کہ اسلامی بنکا ری و جدید مالی معاملات کے مسائل پر حضرت مفتی تقی عثمانی اورحضرت ڈاکٹر عبدا الواحد صاحب کے درمارن شدید اختلاف ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے متعدد کتابوں مںں ، بالخصوص" جدید معاشی مسائل اور حضرت مولانا تقی عثمانی کے دلائل کا جائزہ "میں مفتی صاحب کے مؤقف پر خوب تنقید کی ہے اور مفتی صاحب نے اپنی کتاب "غیر سودی بینکا ری" میں ان کا دلائل کے ساتھ بھر پور جواب بھی دیا ہے۔ اس قدر اختلافات کے باوجود ۔۔۔۔ یہ دونوں حضرات جس محبت و باہمی احترام کے ساتھ گفتگو فرمارہے تھے۔۔۔۔ اس میں ان اہلِ علم حضرات کے لے خصوصا اور عوام کے لےعموما بہت ہی اہم سبق ہے جو چھوٹے چھوٹے اختلافات پر اعتدال اور ادب کا دامن چھوڑ دیتے ہںو۔ حضرت ڈاکٹر صاحب عرصہ سے رعشہ کے مریض ہیں ۔۔۔ ستر سال سے زائد عمر کی وجہ سے چلنا مشکل ہے ، پھر بھی علمِ دین کی سچی طلب میں خود چل کر تشریف لائے، حالانکہ پانچ دس منٹ کےیہ سوالات وہ فون پر بھی کرسکتے تھے۔ طرز کلام میں عاجزی اور نہایت محبت کا انداز نمایاں تھا۔۔ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی طالب علم اپنے استاذ سے محو گفتگو ہو۔۔۔اللہ اکبر۔۔۔ ڈاکٹر صاحب نے ملاقات کے آخر میں اپنے لرزتے ہاتھوں سے مفتی صاحب کو ہدیہ پیش کیا تو مفتی صاحب بڑی محبت سے فرمانے لگے کہ آپ کا تشریف لانا کوئی کم اعزاز تھا جو آپنے مزید بھی تکلف کیا۔۔۔۔ پھر اپنی تمام تر مصروفیات اور دور دور سے آئے ہوئے مہمانوں کو چھوڑ کر مفتی صاحب خود ان کو سہارا دے کر دفتر سے باہر لائے ۔گاڑی دفتر کے بالکل سامنے دروازے کے پاس لانے کا فرمایا۔۔۔اس جگہ کوئی گاڑی کسی کو لانے کی عام طور پر اجازت نہںی ہوتی۔۔۔ ڈاکٹر صاحب کو ہاتھ تھام کر باہر گاڑی تک رخصت کرنے تشریف لائے اور ڈاکٹر صاحب کے بار بار منع کرنے کے باوجود خود گاڑی مں سہارا دے کر بٹھایا۔ اختلافات اپنی جگہ مگر باہمی احترام، سچی طلب، قدر دانی و حسنِ اختلاف کی اس زندہ جاوید مثال مں سکھنے والوں کے لے بہت سے سبق چھپے ہیں خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طنت را از بندہ محمد وصی بٹ بتاریخ ۲۸ جولائی ۲۰۱۸ ء
3 months ago
0:15
چاند گرہن؛ افراط و تفریط سے بچیں! اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو دین عطا فرمایا ہے وہ افراط وتفریط سے پاک معتدل دین ہے۔ ماہرین فلکیات کی اطلاعات کے مطابق 27 جولائی 2018ء شام کو چاند گرہن ہوگا۔ اس موقع پر ہمارے سادہ لوح مسلمان دو طرح کے طبقات میں خود کو تقسیم کر لیتے ہیں۔ ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کی اس جیسی نشانیوں کو محض سائنس کی کرشمہ سازی سمجھتا ہے جبکہ دوسرا جاہلانہ اوہام و خیالات کا شکار ہو ضعف اعتقادی (حاملہ عورت چھری ، چاقو یا تیز دھار آلہ استعمال نہ کرے ورنہ پیٹ میں موجود بچہ یا بچی کے ہونٹ کٹ جائیں گے ۔ وغیرہ )میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ دین اسلام مذکورہ بالا دونوں طبقات کے افراط وتفریط پر مبنی نظریات کو بڑی شدومد سے مسترد کرتا ہے اور ایسی معتدل تعلیم دیتا ہے جو انسان کے عقل وشعور، فکر ونظر اور قلبی کیفیات کو حقیقت کی طرف لے جاتی ہے چنانچہ عَنْ عَائِشَةَ رضی اللہ عنہا، أَنَّهَا قَالَتْ خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالنَّاسِ ….فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ ‏”‏ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لاَ يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ وَكَبِّرُوا، وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ! وَاللَّهِ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ! وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا صحیح بخاری، باب صدقہ فی الکسوف، حدیث نمبر 1044 ترجمہ: ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج گرہن ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز (خسوف) پڑھائی …… آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا۔ جس میں اللہ کی حمدوثناء بیان فرمائی۔ اس کے بعد فرمایا: سورج اور چاند دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں وہ کسی کی موت یا زندگی سے بے نور نہیں ہوتے۔ جب تم گرہن دیکھو تو اللہ کو یاد کرواور تکبیر کہو اور نماز پڑھو اور خیرات کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے امت محمد! دیکھو اللہ سے زیادہ کوئی غیرت والا نہیں اس کو بڑی غیرت آتی ہے اگر اس کا بندہ یا بندی زنا کرے۔ اے امت محمد! اگرتم وہ بات جان لیتے جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنسے اور زیادہ روتے۔ حدیث مبارک میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے فکروشعور اور اعتقادات کو صحیح رخ کی طرف موڑتے ہوئے سمجھایا کہ سورج اور چاند گرہن کومحض سائنس کی کرشمہ سازی نہ سمجھو اور نہ ہی اسے تغیرات زمانہ کی طرف منسوب کرو بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے یعنی وہ اپنی قدرت کے اظہار کے لیے انہیں رونما فرماتا ہے۔ فکری تربیت اور اعتقادات کا ضعف دور کرنے کے بعد پھر تین اہم کاموں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے: نماز، دعا اور صدقہ۔ نماز میں اللہ سے مناجات ہوتی ہے مشکل وقت میں نماز کے ذریعے نصرت خداوندی کو طلب کیا جاتا ہے، اہم العبادات ہے قربت الہیٰ کا سب سے اہم اورعام ذریعہ ہے جبکہ دعا عبادت کا مغز اور نچوڑ ہے اللہ کی رحمت کو متوجہ کرتی ہے۔ اسی طرح صدقہ اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کرتا ہے، حادثاتی مصائب کو دور کرتا ہے۔ حدیث کے آخر میں زنا جیسے کبیرہ گناہ سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اس موقع پر زنا کو ذکر کرنے کی مناسبت یہ نظر آتی ہے کہ لوگوں کو نماز، دعا اور صدقہ جیسے نیک اعمال کرنے کا حکم دیا تو ساتھ میں زنا جیسے کبیرہ گناہ سے رکنے کو بھی کہا کیونکہ زنا ایک کبیرہ گناہ ہے جو مصائب کے نزول کا سبب ہے۔ باقی معاشرتی طور پر بھی زنا ہر قوم میں قبیح اور برا سمجھا جاتا ہے یہ محض انفرادی نوعیت کا گناہ نہیں بلکہ اجتماعی نوعیت کا سنگین جرم ہے جس سے غیرت کا جنازہ نکلتا ہے اور کبھی اسی کی وجہ سے غیرت کے نام پر جنازے اٹھتے ہیں نسب اور میراث کے احکام میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے انسانی نظام تباہ ہوتا ہے اور فطرت خداوندی کے اصول پاش پاش ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ اس موقع پر ایسے گناہ کا ذکر کرنا اس وجہ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اتنے بڑے حادثات دیکھ کر انسانوں کے دلوں میں خوف پیدا ہوتا ہے اس خوف کو صحیح سمت کی ضرورت ہوتی ہے اور خوف کی صحیح سمت یہ ہے کہ انسان میں خوف خدا پیدا ہوجائے اور ایسے گناہ جو اس کے عذاب کا ذریعہ بنتے ہیں ان سے توبہ کی جائے۔ اس لیے اعتقادی اور فکری طور پر افراط و تفریط سے بچ کر معتدل نظریہ اپنائیں۔ اس موقع پر احکام شریعت پر عمل کرتے ہوئے نماز ، دعا اور صدقہ کا اہتمام کریں اور تمام گناہوں سے اللہ کے حضور سچی توبہ کریں ۔ والسلام محمد الیاس گھمن مسقط سلطنت عمان جمعرات، 27 جولائی، 2018ء
3 months ago