Chacha Kydu چاچا کیدو

Musician/Band

کیدو .. بات وہ ہی اچھی جو ہو سچی،سیدھی اور کھری

0:54
ان باکس میں موصول پوسٹ پنجاب پولیس کا ایک نیا کارنامہ دیکھتا جا شرماتا جا 😠 آج مورخہ 04 جولائی 2019 کو میں اپنے بھائی اور والدہ کے ہمراہ پشاور سے چنیوٹ براستہ موٹر وے اپنے سسرال جا رہا تھا. ہم نے سیال انٹرچینج پہ اتر کر کلووال روڈ سے چنیوٹ پہنچنا تھا. لیکن جیسے ہی ہم انٹرچینج پہ پہنچے تو وہاں پنجاب پولیس کے ایک جوان نے ہمیں رکنے کا کہا. ہم رک گئے. شناختی کارڈ وغیرہ دیکھنے کے بعد گاڑی کے کاغذات مانگے. ہماری گاڑی سوزکی خیبر ہم نے اپنے گاؤں کے ایک شخص سے 16 جون 2019 کو خریدی تھی جبکہ اس نے یہ گاڑی اسلام آباد کے ایک سرکاری اہلکار سے لی اس اہلکار نے گاڑی جب سے خریدی تھی اپنے نام کی رجسٹریشن حاصل نہیں کی تھی. لیکن جب ہمارے گاؤں کے شخص نے اسی سال اپریل میں گاڑی خریدی تو اپنے نام کی رجسٹریشن کے لیے کاغذات جمع کروا دیے. رجسٹریشن محکمے نے ان کاغذات کی ایک رسید دی جو کمپیوٹرائزڈ کارڈ کے آنے تک گاڑی کے ساتھ رہنی تھی. کمپیوٹرائزڈ کارڈ ابھی تک حکومت کی طرف سے نہیں آیا تھا لہذا ہم بھی اسی رسید کے ساتھ سفر کر رہے تھے. جب ہم نے وہ رسید پنجاب پولیس کے جوان کو دکھائی تو اس نے سرکاری رسید کو ماننے سے انکار کر دیا اور ہمیں گاڑی سمیت ایک دوسرے جوان کے ساتھ قریبی تھانے بھیجنے لگا. ہمارا زندگی میں پہلی دفعہ پولیس سے واسطہ پڑا تھا ہمیں رشوت دینے کا طریقہ بھی نہیں آتا تھا. مجھے خیال آیا کے اپنے سسر کو فون کر کے بتا دوں کے ہمارے ساتھ اس طرح مسئلہ ہو گیا ہے میں نے فون کیا تو میرے سسر نے کہا کہ میری بات کرواؤ کہ یہ کاغذات ہونے کہ باوجود کیوں نہیں چھوڑ رہا میں نے بات کروائی تو اس پنجاب پولیس کے جوان رشوت مانگی اور طویل بات چیت کے بعد فون مجھے پکڑا کر اپنی چوکی کے اندر چلا گیا میں فون کی طرف دیکھا تو ابھی کال چل رہی تھی میں نے سسر سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ نہیں مان رہا پیسے دے دو کیونکہ والدہ کو لے کہ اب تھانے جاؤ گے تو اور دیر ہو جائے گی اور گرمی بھی زیادہ ہے. فون بند کر کے چوکی کے اندر گیا تو وہ پنجاب پولیس کا میرا انتظار کر رہا تھا.
2 months ago