Lchangra ལྕང་ར།

Community

Lchangra stands for an enclosure of willow trees where the village elders convene to discuss issues. we share about the culture of ladakh and baltistan


Lchangra stands for an enclosure of willow trees where the village elders convene to discuss issues. At this forum, we intend to share information on ladakh and Balti culture, language and script and raise awareness about its relation with Tibetan civilization
Description
ལྕང་ར་ བལ་ཏི་ ཡུལ་ ཀྱི་ སྐད་ ནང་ ཡི་གེ་ ནང་ རིག་གཞུང་ ནང་ ཁྲིམས་ ནང་ ལུགས་ ནང་ ཤེས་རིག་ གྱི་ ཡོན་ཏན་ འཕེལ་ བཅུག་པའི་ ཡང་ ཡར་རྒྱས་ ཀྱི་ ལས་འགུལ་ གཅིག་ ཡིན།།
Lchangra Baltiyul yi skad nang yige nang rigzhung (culture) nang khrims (customs) nang lugs (behaviour) nang shesrig (knowledge) yi yontan (education) phel-chuk pai (spread) yang yargyas (development) yi lasgul (movement) chik in

Lchangra is a movement to develop and educate about Ladakhi, Balti and TIbetan language, script, culture, customs, behaviour and knowledge

4:29
1971 کی جنگ میں ضلع گنگچھے کے وادی چھوربٹ (گلگت بلتستان ) کے بہت سے خاندان اور علاقے بچھڑ گئے۔کہیں بیٹا چھوربٹ میں ہے تو ماں باپ انڈیا میں، کہیں ماں باپ یہاں تو بچے وہاں رہ گئے کہیں بارڈر کے اس پار بہن ہے اس پار بھائی, کہیں محبوب وہاں تو معشوق یہاں, اس انسانی المیے کو آج تک ھم نہیں بھولے اور نہ ہی دونوں حکومتوں نے اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کی۔۔ آج بھی ہزاروں بچھڑے خاندان ایک دوسرے سے ملنے کی حسرت دل میں لئے بیٹھی ہے,کئی اپنے اپنوں کو دیکھنے اور گلے ملنے کی حسرت دل میں لئے اس دنیا سے کوچ کر گئے اور ان کی حسرت بھی مٹی میں دفن ہو گئی ,کاش بارڈرز کھل جائیں اور بچھڑے لوگوں کو ایک دوسرے سے ملنے کا موقع مل جائے,کاش ایسا ہوتا,اگر ایسا ہو جائے تو کیا رقت آمیز مناظر ہوں گے, آنسوؤں کا دریا بہے گا مگر خوشی کے مارے,غم تکتا رہ جائے گا,.. کرتار پور بارڈر کھل گیا,سکھوں کے دل کی ارمان پوری ہو گئی , مگر خدا جانے گلگت بلتستان والوں کی ارمانوں پہ لگی زنگ کب ختم ہوں گے,ہم اسی کی آس لیئے جی رہے ہیں... اسی پس منظر میں وادی تھگموس چھوربٹ سے ایک بیٹی زیبا نے پرانے بلتی رواج کے مطابق "خلو" نغمہ اپنی ماں باپ کو تحفہ بھیجا جس میں وہ اپنی داستان غم بیان کر رہی ہے۔ اور وہ خود وادی تھگموس چھوربٹ میں موجود ہیں جبکہ اس کے والدین تھنگ (انڈیا) میں ھے- یہ دلگداز واقعہ اور زیبا کی پکار آپ بھی سنئے۔۔ زیبا نے دونوں گوارنمنٹ سے مطالبہ کی ہے کہ سکردو کرگل روڈ کھول دیا جائے اور لوگوں کو دونوں اطراف کا دورہ کرنے کی اجازت دی جائے ۔ کیونکہ وہ اپنے پیاروں سے ملنے کی حسرت لیئے بیٹھی ہے.. Courtesy: Faisal Aakash Hariii‎
2 months ago
4:53
Kesar/Gesar
2 months ago